حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی میں سہیل آفریدی کا کیا کردار رہا؟

اتوار 4 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت وفاقی حکومت کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کر رہی تھی، عین اس وقت پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اسلام آباد مارچ کو حتمی شکل دے رہے تھے، ان کی تمام تر توجہ بھی مارچ پر ہی مرکوزتھی۔

ہفتہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں دوسرے راؤنڈ کی طویل نشست کے بعد معاملات بہتر ہونے کی خبریں بھی سامنے آئیں، لیکن عین اعلان کے وقت مذاکرات ناکام ہوگئے۔

پی ٹی آئی وفد کے ارکان نے میڈیا کو بتایا کہ مذاکرات مثبت رہے، لیکن صوبائی حکومت کے معاملات اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاق کی مدد سمیت دیگر امور پراختلافات کے باعث کامیابی کے قریب پہنچنے والی بات چیت ناکام ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:کوئی بامعنی مذاکرات کرنا چاہے گا تو عمران خان سے مشاورت کریں گے، پی ٹی آئی کا حکومتی پیشکش پر جواب

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور مذاکراتی ٹیم کے رکن نوید قمر نے ناکامی کا سارا ملبہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر ڈال دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم مسلسل صوبے میں رابطے میں تھی اور وہاں سے ہدایات لے رہی تھی۔

کیا اسلام آباد مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی میں اختلافات تھے؟

پی ٹی آئی وفد کے اراکین کا کہنا تھا کہ قیادت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور مطالبات کے حوالے سے اپنی بات چیت بھی حکومتی وفد کے سامنے رکھی ہے۔

ترجمان خیبر پختونخوا حکومت شفیع جان نے واضح کیا تھا کہ مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلے گا، مرکزی قیادت ہی اس کا اعلان کرے گی۔

تاہم پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر پارٹی کے اندرونی سطح پر اختلافات موجود تھے۔ خیبر پختونخوا کی قیادت، جس میں سہیل آفریدی اور جنید اکبر شامل تھے، عمران خان سے مشاورت کے بغیر مذاکرات کو آگے بڑھانے کے قائل نہیں تھے۔

ایک صوبائی رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی پر شدید ترین دباؤ ہے، جبکہ پارٹی کے اندر مخالف گروپس بھی انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے مذاکراتی ٹیم کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ کوئی بھی بات یا مذاکرات عمران خان کی منظوری اور مشاورت کے بغیر منظور نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی اور عمران خان ایک قدم پیچھے ہٹیں، حکومت بھی مذاکرات کیلئے راستہ بنائے: فواد چوہدری

پارٹی رہنما کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت میں بھی اختلافِ رائے موجود ہے۔ صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی مارچ ملتوی کرنے کے حق میں ہیں، جبکہ جنید اکبراسلام آباد پہنچنے کے حق میں ہیں۔

سہیل آفریدی مذاکرات کے نتائج کن شرائط پر ماننے کو تیار تھے؟

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق جس وقت اسلام آباد میں مذاکرات ہو رہے تھے، اسی وقت سہیل آفریدی اسلام آباد مارچ کی تیاریوں میں بھی مصروف تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کا پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم سے بھی مسلسل رابطہ تھا۔

ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے مذاکراتی ٹیم کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ ان کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، جو ان کے مطابق آئینی اور قانونی ہیں، منظور کیے جاتے ہیں تو مارچ نہیں ہوگا، جبکہ مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں اسلام آباد پہنچنے کے لیے تمام تر تیاری مکمل ہے۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی اس وقت عمران خان تک رسائی چاہتے ہیں اور اگر ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوتا اور مذاکرات میں ان کا یہ مطالبہ بھی مان لیا جاتا تو کارکنوں کے سامنے سہیل آفریدی کی عزت بھی بحال رہ جاتی۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی مذاکرات میں اصل ’اسٹیک ہولڈرز‘ سے مشاورت کے لیے حکومت کو وقت دے رہی ہے، اسد قیصر

پی ٹی آئی کے رہنما نے بتایا کہ مذاکراتی ٹیم کو واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ عمران خان سے مشاورت کے بعد ہی مذاکرات کے نتائج حتمی ہوں گے۔ اگر عمران خان سے منظوری لیے بغیر اعلان ہوا بھی تو وہ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

مذاکرات کی ناکامی کے فوراً بعد مارچ کے شیڈول کا اعلان

اسلام آباد میں طویل نشست کے بعد مذاکرات ناکام ہوئے تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بغیر وقت ضائع کیے اسلام آباد مارچ کے شیڈول کا اعلان کر دیاـ

وزیراعلیٰ نے رات گئے اعلان میں بتایا کہ اسلام آباد مارچ اتوار کو کرم مروت سے شروع ہوگا، جو آہستہ آہستہ مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا پشاور پہنچے گا اور پھر نوشہرہ سے ہوتا ہوا اسلام آباد روانہ ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp