خیبرپختونخوا میں حالات خراب، ایک دن صوبے کا رابطہ منقطع ہونے سے کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے، صدر چیمبر ملک عمران اسحاق

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نو منتخب صدر و صنعت کار ملک عمران اسحاق نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کاروباری حالات پہلے ہی خراب ہیں، جبکہ سڑکیں بند کرکے احتجاج اور دھرنوں سے کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہورہی ہیں۔

پشاور میں ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ملک عمران اسحاق نے کہا کہ صوبے کا کاروباری طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے، آئے روز صنعتیں اور فیکٹریاں خیبر پختونخوا سے منتقل ہو رہی ہیں جبکہ کاروباری افراد بھی اپنا کاروبار دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔

مزید پڑھیں: ہڑتال، دھرنوں اور کاروباری بندش سے معیشت کو روزانہ 120 ارب روپے نقصان کا خدشہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں کاروباری حالات خراب ہونے کی کئی وجوہات ہیں، جن پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کی بہتری کے لیے خصوصی ریلیف یا پیکیج متعارف کرایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ ابتر امن و امان کی صورت حال، لوڈشیڈنگ اور دیگر وجوہات کی بنا پر تاجر کاروبار منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔

’روڈ بندش سے سب سے زیادہ نقصان کاروبار کا ہوتا ہے‘

ملک عمران اسحاق نے سیاسی عدم استحکام اور صوبے میں جاری احتجاج کو بھی کاروبار کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور بتایا کہ احتجاج اور دھرنوں سے کاروبار پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ ’کاروبار کے لیے مستحکم سپلائی چین کا ہونا انتہائی اہم ہے اور یہ بند ہو جائے تو پورا نظام رک جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا ملک کے آخری حصے میں واقع ہے، جہاں صنعتوں کے لیے خام مال ملک کے دیگر حصوں سے آتا ہے جبکہ تیار شدہ مصنوعات بھی ملک کے دوسرے شہروں کی مارکیٹوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑک بند ہونے کی صورت میں پوری سپلائی چین متاثر ہوتی ہے، نہ خام مال پہنچ پاتا ہے اور نہ ہی تیار مال مارکیٹوں تک لے جایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کی انڈسٹری سے وابستہ افراد کو اس طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ ’روڈ بندش سے ایک چھوٹے دکاندار سے لے کر انڈسٹریل سیکٹر تک سب متاثر ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ روڈ بندش اور پرتشدد احتجاج سے ماضی میں کاروباری طبقے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا اور اس سے ہر وقت پریشانی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جتنا نقصان ہوتا ہے بتانا مشکل ہے لیکن اگر صرف ایک دن کے لیے سڑکیں بند ہوتی ہیں تو نقصان ہزاروں یا لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہوتا ہے اور اگر سپلائی چین طویل عرصے کے لیے بند رہے پھر تو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی کے باوجود پاکستان کے معاشی اشاریے بہتر کیوں، کن معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے؟

ملک عمران اسحاق نے حکومت پر زور دیا کہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ صوبے میں کاروباری حالات بہتر بنا کر ہی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp