کبھی اگست کے آخری دنوں میں کوئٹہ کے انگور کے باغات میں صبح کے وقت پتوں پر اوس کے قطرے اور فضا میں خنکی ہوتی تھی، لیکن بدلتے موسم نے اب اس منظر کو تبدیل کردیا ہے۔ شدید گرمی، بارشوں میں کمی اور پانی کی قلت کے باعث قمبرانی روڈ سمیت کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں سالوں پرانے انگور کے باغات کی پیداوار متاثر ہورہی ہے، جبکہ بعض باغبانوں کے مطابق رواں سیزن میں پیداوار میں 30 سے 40 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: کاجو کے درختوں سے ایک نہیں 2 فصلیں؟ گھانا میں نئی معاشی امید جاگ اٹھی
قمبرانی روڈ پر واقع ایک قدیم انگور کے باغ کے مالک ملک محمد یونس شاہوانی کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کی اس باغ سے وابستگی کئی دہائیوں پر محیط ہے، مگر موسمی حالات میں آنے والی تبدیلی نے اب ان باغات کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ان کے مطابق پہلے اگست کے آخر میں صبح کے وقت شدید خنکی ہوتی تھی اور انگور کے پتوں پر اوس جمی نظر آتی تھی، لیکن اب اسی موسم میں شدید گرمی نے باغات کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔
باغبان ملک محمد یونس نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ موسمی حالات کی غیر یقینی صورتحال کے باعث انگور کی بیلیں خشک ہورہی ہیں، جبکہ کیڑے مکوڑوں کا حملہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں کئی قدیم انگور کے باغات کا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔
بلوچستان پاکستان میں انگور کی پیداوار کا اہم مرکز ہے اور مقامی کسانوں کے مطابق ملک کی مجموعی انگور کی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد صوبے سے حاصل ہوتا ہے۔ کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، قلات، پشین اور قلعہ عبداللہ کے علاقے بھی انگور کی کاشت کے لیے مشہور ہیں۔
تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید گرمی، خشک سالی اور بارشوں کے غیر متوقع سلسلے نے انگور سمیت سیب، آڑو اور خوبانی کی فصلوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
رواں سیزن میں کوئٹہ کے بعض باغبانوں نے انگور کی پیداوار میں 30 سے 40 فیصد تک کمی کی شکایت کی ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ ارضیات ڈاکٹر دین محمد نے کہاکہ بلوچستان میں زیر زمین پانی کی سطح کئی علاقوں میں سالانہ تین سے چار میٹر تک نیچے جارہی ہے، جبکہ کوئٹہ ویلی میں پانی کی سطح گرنے کی رفتار اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہاکہ زیرِ زمین پانی کے وہ ذخائر جو ہزاروں اور لاکھوں سال کے دوران قدرتی طور پر تشکیل پائے تھے، مسلسل نکالے جارہے ہیں۔ پہاڑوں اور برف سے ری چارج ہونے والے گہرے آبی ذخائر تک بھی ڈرلنگ کے ذریعے رسائی حاصل کی جارہی ہے، جس کے باعث بعض مقامات پر وہ پانی کے ذخائر بھی تیزی سے ختم ہورہے ہیں جو طویل عرصے تک دستیاب رہنے کی توقع تھی۔
ڈاکٹر دین محمد کا مؤقف ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے پانی کے بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔ بلوچستان میں بارشیں یا تو کم ہورہی ہیں یا پھر انتہائی شدت سے ہوتی ہیں، جس کے باعث بارش کا بڑا حصہ سیلابی پانی کی صورت میں بہہ جاتا ہے اور زمین میں مناسب مقدار میں جذب ہوکر زیرِ زمین پانی کو ری چارج نہیں کرپاتا۔
دوسری جانب باغبانوں کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کے باعث انہیں فصل کی حفاظت کے لیے اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ شدید گرمی اور گردوغبار کے باعث بعض کاشتکاروں کو کیڑے مار ادویات کے اسپرے بھی معمول سے زیادہ کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے پیداوار کی لاگت بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: کپاس کی پیداوار میں 50 فیصد سے زیادہ کمی، ملک کو سالانہ 3 ارب ڈالر کا بڑا معاشی نقصان
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی، زیرِ زمین پانی کی گرتی سطح اور بارشوں میں کمی کے مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو بلوچستان کے تاریخی انگور کے باغات کے ساتھ صوبے کی پھلوں کی معیشت بھی مستقبل میں شدید خطرات سے دوچار ہوسکتی ہے۔













