کاجو کے درختوں سے ایک نہیں 2 فصلیں؟ گھانا میں نئی معاشی امید جاگ اٹھی

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گھانا میں کاجو کے درختوں سے حاصل ہونے والا وہ پھل جسے کسان برسوں سے تقریباً بے کار سمجھ کر زمین پر گرنے دیتے اور ضائع ہونے دیتے تھے، اب نئی معاشی امید بن گیا ہے۔ محققین، کسان اور صنعت سے وابستہ ادارے کاجو کے اس پھل سے جوس، مشروبات اور مختلف غذائی مصنوعات تیار کرنے کے طریقے تلاش کررہے ہیں، جس سے دیہی علاقوں میں روزگار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

گھانا افریقہ کے بڑے کاجو پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ ٹن خام کاجو پیدا کرتا ہے۔ تاہم کاجو کے درختوں پر گری دار میوے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مقدار میں پھل لگتا ہے، جس کا بیشتر حصہ مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوجاتا ہے۔

کاجو کی فصل کے موسم میں کسان درختوں سے گری دار میوے جمع کرکے خریداروں کو فروخت کرتے ہیں، لیکن ان سے جڑا ہوا نرم اور رسیلا پھل اکثر کھیتوں ہی میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تازہ کاجو کا پھل انتہائی تیزی سے خراب ہوتا ہے اور عموماً 24 گھنٹے کے اندر ناقابل استعمال ہوجاتا ہے۔ دور دراز علاقوں سے اسے پروسیسنگ مراکز تک پہنچانا بھی ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

تاہم اب گھانا کے سی ایس آئی آر فوڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے ’ایم اے کیش‘ نامی تحقیقی منصوبے کے تحت اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ منصوبے کا مقصد کاجو کی پیداوار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پوت کے پاؤں پالنے میں: گھانا کے ڈیڑھ سالہ بچے نے خود کو دنیا کا کمسن ترین مرد مصور منوالیا

تحقیق کے دوران کاجو کے پھل سے جوس، مختلف مشروبات، ساسیجز، بیگلز اور دیگر غذائی مصنوعات تیار کی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پھل میں موجود ٹینن کی زیادہ مقدار اس کے ذائقے اور صارفین کی پسند کے لیے ایک رکاوٹ تھی، جسے کم کرنے کے لیے خصوصی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

محققین نے پھل کو محفوظ رکھنے کی ایسی ٹیکنالوجی بھی تیار کی ہے جس کے ذریعے اسے تقریباً چھ دن تک قابل استعمال حالت میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد پروسیسنگ مرکز پہنچنے پر اسے ریفریجریٹ کرکے طویل عرصے تک استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس پیش رفت سے پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر کاجو کے پھل کو جمع کرکے تجارتی بنیادوں پر استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

کچھ کسانوں نے اس پھل سے روایتی مشروب ’پیتو‘، شراب اور دیگر مشروبات تیار کرنے کے تجربات بھی شروع کردیے ہیں۔ کسان سیموئل نورٹے اڈوموا کے مطابق کاجو سے تیار ہونے والے مشروبات میں مارکیٹ کی بھرپور صلاحیت موجود ہے اور سرمایہ کار اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں تو یہ ایک منافع بخش کاروبار بن سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق صرف مصنوعات تیار کرنا کافی نہیں، بلکہ ایک مکمل سپلائی چین، پروسیسنگ مراکز، سرمایہ کاری اور قابل اعتماد مارکیٹ بھی ضروری ہے۔ گھانا میں ماضی میں کاجو کی پروسیسنگ کے کارخانے قائم ہوئے لیکن بعض خام مال کی مسلسل فراہمی نہ ہونے کے باعث مشکلات کا شکار ہوگئے۔

ایک اور بڑی رکاوٹ کسانوں کا غیر ملکی خریداروں پر مالی انحصار ہے۔ بھارت اور ویتنام جیسے بڑے خریدار اکثر فصل سے پہلے کسانوں کو قرض یا مالی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کسان فصل آنے پر انہی خریداروں کو کاجو فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مقامی پروسیسنگ کے لیے کارخانے قائم کرے اور کسانوں کو متبادل مالی سہولت فراہم کی جائے تو کاجو کے پھل سے اضافی آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے، جس سے کسانوں کی قرض واپسی کی صلاحیت بڑھے گی اور بینک بھی انہیں قرض دینے میں زیادہ اعتماد محسوس کریں گے۔

گھانا کے حکام کا کہنا ہے کہ کبھی محض ضمنی پیداوار سمجھا جانے والا کاجو کا پھل اب ایک اہم معاشی وسیلہ بن سکتا ہے، جو زرعی صنعت کے فروغ، روزگار کی فراہمی اور دیہی معیشت کی بہتری میں کردار ادا کرے گا۔

کسانوں کے لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ کاجو کے گری دار میوے سے کتنی آمدنی حاصل ہوتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ درخت سے گرنے والا وہ پھل، جو برسوں سے ان کی آنکھوں کے سامنے ضائع ہوتا رہا، اب کتنی نئی دولت پیدا کرسکتا ہے۔ گھانا کے پاس پھل بھی ہے، تحقیق بھی اور مصنوعات تیار کرنے کے تجربات بھی؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ کھیت سے فیکٹری اور فیکٹری سے صارف تک ایک مؤثر معاشی زنجیر قائم کردی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں