فرانس: طلبہ تحریک پُر تشدد ہوگئی، ہزاروں طلبہ گرفتار، جھڑپوں کے بعد 500 اسکول بند

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس میں طلبہ کی جانب سے پیر کے روز سے مظاہرے دوبارہ شروع کرنے کی کال کے بعد حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر 400 سے 500 کے قریب ہائی اسکولوں کو مکمل یا جزوی طور پر بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

فرانسیسی وزیرِ تعلیم ایڈورڈ جیفرے کے مطابق، تعلیمی سرگرمیوں کی بتدریج بحالی کے منصوبے کے تحت یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ متعدد مقامات پر املاک اور طلبہ کے تحفظ کی صورتِ حال تسلی بخش نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے فرانس میں اسکولوں کی خستہ حالی: طلبہ کا احتجاج پرتشدد ہو گیا، 400 سے زیادہ گرفتاریاں

وزیرِ تعلیم نے انکشاف کیا کہ مظاہروں کے آغاز سے اب تک 24 اسکولوں کو یا تو نذرِ آتش کر دیا گیا ہے یا پھر وہاں شدید توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔

فرانسیسی تعلیمی اداروں میں یہ احتجاج 17 ستمبر کو پیرس کے ایک مضافاتی اسکول سے شروع ہوا تھا، جہاں اساتذہ کی شدید کمی، طویل تدریسی اوقات اور دیگر سہولیات کی عدم دستیابی پر مظاہرے کیے گئے۔ وقت کے ساتھ یہ تحریک پورے ملک میں پھیل گئی جس کے بعد کلاسوں کا بائیکاٹ، اسکولوں کی تالابندی اور مظاہرے معمول بن چکے ہیں۔

وزارتِ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ جمعہ کے روز بھی ملک بھر کے 3,700 ہائی اسکولوں میں سے 400 مکمل طور پر بند رہے جبکہ 560 سے زائد اداروں میں تعلیمی عمل متاثر ہوا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ستمبر کے وسط سے جاری ان جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں اب تک کم از کم 170 طلبہ اور 78 تعلیمی عملے کے ارکان زخمی ہو چکے ہیں۔

وزارتِ داخلہ نے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 5,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے 85 فیصد کمسن افراد (مائنرز) ہیں۔

دوسری جانب، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر ناقدین نے پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف ’بے جا تشدد‘ کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ پر تشدد کے بجائے ان کے جائز مطالبات سنے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے طلبہ کا پرتشدد احتجاج پورے فرانس میں پھیل گیا، 400 ہائی اسکول بند، 2 ہزار افراد گرفتار

ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے فرانسیسی وزیرِ تعلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ سخت گیر بائیں بازو کے انتہا پسند عناصر طلبہ کی اس تحریک میں شامل ہو چکے ہیں جنہوں نے تحریک کو یرغمال بنا کر تشدد کو فروغ دیا ہے۔

دوسری طرف، احتجاجی تنظیموں نے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کی جانب سے ٹھوس اقدامات نہ کیے جانے پر مظاہرے مزید تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp