مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کے نامزد رہنماؤں کے پاس اختیارات نہیں تھے، امیر مقام

پیر 5 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کے لیے نامزد رہنماؤں کے پاس فیصلہ کرنے کے اختیارات نہیں تھے، مذاکرات کی ناکامی افسوسناک ہے۔

مزید پڑھیں:انجینئر امیر مقام پر حملہ: تحریک طالبان پاکستان کا مؤقف سامنے آگیا

اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دھمکی آمیز ٹوئٹس کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے علامہ راجا ناصر عباس کو مذاکرات کی قیادت سونپی تھی، تاہم مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ ان کی صوبائی قیادت مذاکراتی فیصلوں کو تسلیم نہیں کر رہی۔

امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں لوگ دہشتگردی کے خوف سے اپنے پیاروں کے جنازوں میں شرکت نہیں کرتے، لیکن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کا مارچ آزادانہ طور پر گھوم رہا ہے۔

مزید پڑھیں:’سہیل آفریدی جلد جیل میں ہوں گے‘، مذاکرات کے لیے تیار لیکن قیدی کی رہائی پر بات نہیں ہوگی، امیر مقام

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا مسئلہ صرف صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کا مسئلہ ہے، اگر صوبہ دہشتگردوں کے قبضے میں چلا گیا تو اس کے اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ پولیس کو بااختیار بنا کر دہشتگردی ختم کریں گے، جبکہ دوسری جانب پولیس ایکٹ میں تبدیلی کرکے پولیس سے اختیارات واپس لے لیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp