پاکستانی سینما نے عالمی سطح پر ایک اور اہم کامیابی حاصل کرلی۔ کینیڈا میں منعقد ہونے والے موسیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول (MISAFF) میں پاکستانی فلم سازوں کی متعدد فلموں نے مختلف اعزازات اپنے نام کرلیے۔
موسیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول کے 12ویں ایڈیشن میں پاکستانی ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی فلم ’لالی‘ اور محمد علی نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائے اے وائر‘ سمیت دیگر پاکستانی فلموں کو نمایاں اعزازات سے نوازا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرمد کھوسٹ کا عالمی سطح پر ایک اور اعزاز، فلم ’لالی‘ نے بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ جیت لیا
سرمد کھوسٹ کی ڈارک کامیڈی فلم ’لالی‘ نے فیسٹیول کا افتتاح کیا اور اسپیشل جیوری پرائز کے ساتھ بہترین ساؤنڈ ڈیزائن کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ فلم کا رواں برس برلن فلم فیسٹیول میں پریمیئر بھی ہوچکا ہے۔
فلم ’لالی‘ کی کہانی زیبا نامی نوجوان لڑکی کے گرد گھومتی ہے جس کا کردار مامیا شاہ جعفر نے ادا کیا ہے۔ فلم میں زیبا کو اس وقت ’منحوس دلہن‘ قرار دیا جاتا ہے جب اس کے 3 سابق شوہر پراسرار حالات میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرمد کھوسٹ کی فلم ‘لالی’ سیئٹل میں تیسویر فیسٹیول کی افتتاحی فلم ہوگی
دوسری جانب محمد علی نقوی کی دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائے اے وائر‘ نے صبیّن محمود ایوارڈ فار کریج اِن سنیما اپنے نام کیا۔ یہ فلم رواں سال اکیڈمی ایوارڈز کے لیے پاکستان کی جانب سے بھی پیش کی گئی ہے۔
دستاویزی فلم میں 2023 کے بٹگرام کیبل کار حادثے کو موضوع بنایا گیا ہے جب 6 بچوں سمیت 8 افراد تقریباً 900 فٹ بلندی پر ایک کیبل کار میں پھنس گئے تھے۔ تمام افراد کو کئی گھنٹوں پر محیط مشکل ریسکیو آپریشن کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس میں ایک اور بڑی میوزیم ڈکیتی، لالیک میوزیم سے قریباً 40 لاکھ یورو مالیت کے زیورات چوری
فیسٹیول میں کامران فائق کی مختصر فلم ’دی لاسٹ گلانس‘ نے بہترین بین الاقوامی مختصر فلم کا ایوارڈ حاصل کیا۔ فلم ایک ایسے خاندان کی کہانی بیان کرتی ہے جو اپنے گاؤں میں جاری تشدد سے بچنے کے لیے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طرح کراچی کی مچھر کالونی کے جمناسٹ نوجوانوں کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم ’دی جمناسٹس آف فشرمین کالونی‘ کو بہترین دستاویزی فلم کی کیٹیگری میں اعزازی ذکر سے نوازا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کے باڈی گارڈ کے بیٹے کی قسمت جاگ گئی، فلم میں چانس مل گیا
MISAFF کا مقصد جنوبی ایشیائی سنیما کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے فلم سازوں کی تخلیقات کو بھی کینیڈین ناظرین تک پہنچانا ہے۔
رواں برس فیسٹیول 30 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاری رہا جس میں پاکستان، بھارت، کینیڈا، نیپال، ایران اور دیگر ممالک کی مجموعی طور پر 16 فیچر فلمیں اور 30 مختصر فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔













