تھر پانی کو ترس گیا، سندھ میں انتظامی بحران سنگین سے سنگین تر، حل کیا ہے؟

منگل 6 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صحراۓ تھر کے اہم شہروں مٹھی، چیلھار اور کلوئی سمیت دیگر شہری علاقے اس وقت شدید انتظامی اور بلدیاتی بحران کی لپیٹ میں ہیں۔ خطے میں ترقی اور بہتری کے تمام تر دعووں کے باوجود ان شہروں کے مکین پینے کے صاف پانی، صفائی اور نکاسیٔ آب جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔

مٹھی اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں کی متعدد آبادیوں اور کالونیوں میں کئی ماہ سے پینے کے پانی کی فراہمی معطل ہے۔ پانی کی لائنیں اور نلکے خشک پڑے ہیں، جس کے باعث شہری پانی کی ایک ایک بوند کے لیے دربدر پھرنے پر مجبور ہیں۔ مقامی شہری انتہائی مہنگے داموں ٹینکروں سے پانی خرید رہے ہیں، جبکہ غریب خاندان شدید گرمی اور سخت موسمی حالات میں بھی دور دراز علاقوں سے غیر معیاری اور آلودہ پانی لانے پر مجبور ہیں۔

پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ شہروں میں نکاسیٔ آب کا بھی کوئی مناسب انتظام نہیں۔ نالیوں کی بروقت صفائی نہ ہونے اور ناکارہ نکاسیٔ آب کے نظام کے باعث گندا اور بدبودار پانی سڑکوں اور گلیوں میں بہتا رہتا ہے۔ صفائی کا نظام بھی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث گلیوں اور بازاروں میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں اور پورے علاقے میں تعفن پھیل رہا ہے۔

بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور انتظامی غفلت کے باعث نہ صرف مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے بلکہ شہریوں میں شدید تشویش اور بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔

متاثرہ شہریوں نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مٹھی، چیلھار اور کلوئی کی تمام محروم آبادیوں اور کالونیوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صفائی کے مؤثر انتظامات اور نکاسیٔ آب کے مسائل کا فوری اور مستقل حل یقینی بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp