پی ٹی آئی کے سیاسی تضادات

منگل 6 اکتوبر 2026
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف جب قومی سیاست میں ابھری تو اس کے ساتھ تبدیلی، نئی سیاست اور ایک مختلف طرز حکمرانی کی امیدیں وابستہ تھیں۔ عمران خان روایتی سیاسی جماعتوں کو خاندانی سیاست، شخصیت پرستی، موروثی قیادت، کرپشن اور اندرونی جمہوریت کے فقدان پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ تحریک انصاف ایک ایسی جماعت ہوگی جہاں فیصلے کسی ایک شخصیت کی مرضی کے بجائے جمہوری طریقہ کار سے ہوں گے۔

یہی وہ معیار تھا جس کی بنیاد پر پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت دوسری جماعتوں کو روایتی سیاست کی علامت قرار دیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ خود تحریک انصاف کے سیاسی سفر میں ایسے متعدد پہلو سامنے آئے جنہوں نے اس کے سابقہ دعووں اور عملی سیاست کے درمیان سوالات پیدا کیے۔

عمران خان 1996 میں تحریک انصاف کے قیام سے دسمبر 2023 تک مسلسل پارٹی کے چیئرمین رہے اور اس پورے عرصے میں پارٹی کی سربراہی کسی دوسرے شخص کو منتقل نہیں ہوئی۔ دسمبر 2023 میں بیرسٹر گوہر علی خان پارٹی چیئرمین منتخب ہوئے، لیکن یہ محض معمول کی قیادت کی تبدیلی نہیں تھی۔ اگست 2023 میں توشہ خانہ کیس میں سزا اور اس کے نتیجے میں نااہلی کے بعد عمران خان قانونی طور پر پارٹی سربراہ رہنے کے اہل نہیں رہے تھے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی تھی کہ آئین کی دفعات 62 اور 63 کے تحت نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ چنانچہ گوہر علی خان کا انتخاب اسی قانونی صورت حال کا نتیجہ تھا۔

عمران خان دیگر سیاسی جماعتوں کی سربراہی کو خاندانی یا شخصی قبضے سے تعبیر کرتے رہے، لیکن اپنی جماعت میں بھی 27 برس تک پارٹی کی سربراہی اپنے پاس ہی رکھی۔ 2013 میں انہوں نے اندرونی جماعتی انتخابات کو اس لیے اہم قرار دیا تھا کہ عام کارکن اوپر آسکیں اور جماعت کسی خاندان یا ایک شخص تک محدود نہ ہو۔ وہ یہ بھی کہتے رہے کہ جن جماعتوں میں قیادت منتخب نہیں ہوتی وہاں پارٹی سربراہ بادشاہ بن جاتا ہے اور کارکن غلام یا درباری بن جاتے ہیں۔

آج تحریک انصاف میں اہم سیاسی اور حکومتی فیصلوں کے لیے عمران خان کی ہدایت اور منظوری کی تلاش ایک نمایاں سیاسی حقیقت بن چکی ہے۔ پارٹی رہنما اور کارکن انہیں مرشد قرار دے کر ان کے احکامات پر چلنے کو فخر کی بات سمجھتے ہیں۔ جیل میں موجود عمران خان سے ملاقات اور ان کی ہدایات کو بھی پارٹی اور خیبرپختونخوا حکومت کے معاملات میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس جماعت نے کبھی اجتماعی دانش اور داخلی جمہوریت کو اپنی شناخت قرار دیا تھا، اس میں فیصلہ سازی کا مرکز آج بھی ایک ہی شخصیت کیوں ہے؟

تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات بھی اس کی داخلی جمہوریت کے دعووں کے برعکس مسلسل تنازعات کا شکار رہے۔ 2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان ہی کی تشکیل کردہ انتخابی ٹریبونل کے سربراہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے بے ضابطگیوں کی شکایات کی تحقیقات کیں اور بعض عہدوں پر دوبارہ انتخابات سمیت سفارشات پیش کیں۔ ان سفارشات پر عملدرآمد کے معاملے میں جسٹس وجیہہ الدین اور عمران خان کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ 2016 میں پارٹی کے چیف الیکشن کمشنر تسنیم نورانی نے بھی انٹرا پارٹی انتخابات کے طریقہ کار پر اختلاف کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں 2023 کے انٹرا پارٹی انتخابات بھی الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں تنازع کا موضوع بنے۔ یوں پارٹی کی داخلی جمہوریت کے اس دعوے پر سوالات برقرار رہے کہ فیصلے واقعی نچلی سطح کے کارکنوں کی مرضی سے ہوتے ہیں۔

اقربا پروری اور خاندانی سیاست کے خلاف تحریک انصاف کے بیانیے کے باوجود اس کی ٹکٹوں کی تقسیم میں سیاسی خاندانوں کے افراد کو بھی نمایاں جگہ ملتی رہی۔ 2018 میں سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے رشتہ داروں کو پارٹی ٹکٹ دئیے گئے،صوابی میں شہرام خان ترکئی اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کو قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے پارٹی ٹکٹ ملے۔ اسی طرح اسد قیصر کے بھائی کو بھی صوبائی نشست پر پی ٹی آئی کا ٹکٹ دیا گیا۔ ایوب خاندان کے متعدد افراد بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔

بعد کے سیاسی حالات میں بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کی سیاسی سرگرمیوں اور پارٹی معاملات میں ان کے نمایاں کردار نے بھی یہ سوال دوبارہ زندہ کیا کہ جس جماعت نے خاندانی سیاست کو روایتی سیاسی جماعتوں کی بڑی خامی قرار دیا تھا، اس کے اپنے سیاسی فیصلوں میں خاندان کے افراد کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو کس اصول کے تحت دیکھا جائے؟

تحریک انصاف کے سیاسی سفر میں یوٹرن کا معاملہ بھی غور طلب ہے۔ کئی مواقع پر ایک مرحلے پر انتہائی پُراعتماد اور سخت مؤقف اختیار کیا گیا، لیکن حالات بدلنے کے بعد اسی واقعے کی تشریح بھی بدل گئی۔

زمان پارک میں عمران خان کی گرفتاری سے پہلے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور کہا جاتا تھا کہ عمران خان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی تو شدید ردعمل اور سخت مزاحمت ہوگی، جبکہ عمران خان کو سرخ لکیر قرار دیا جاتا تھا۔ 9 مئی 2023 کو ان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پرتشدد واقعات ہوئے اور ریاستی و عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بعد میں تحریک انصاف کے بیانیے میں یہ مؤقف نمایاں ہوا کہ 9 مئی دراصل اداروں کی منصوبہ بندی تھی اور پارٹی کو اس کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی للکار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے واقعات کی ذمہ داری سے بعد میں مکمل لاتعلقی اختیار کرنے سے کیا تاریخ کے واقعات تبدیل ہو جاتے ہیں؟

مسجد نبویؐ میں اپریل 2022 کے واقعے کے بعد بھی یہی طرزِ سیاست نظر آیا۔ ایک حکومتی وفد کے خلاف نعرے بازی اور بدسلوکی ہوئی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ابتدائی طور پر اسے مسلم لیگ ن کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن سعودی حکومت کی کارروائی کے بعد یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ واقعہ مسلم لیگ ن نے خود کرایا تھا۔ ایک ہی واقعے کے بارے میں بدلتے ہوئے یہ مؤقف بھی سیاسی بیانیے میں تبدیلی کی مثال بن گیا۔

24 نومبر 2024 کے اسلام آباد احتجاج سے قبل بھی بڑے دعوے اور سخت بیانات سامنے آئے۔ علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ احتجاج اپنے مقصد کے حصول تک جاری رہے گا اور واپسی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن احتجاج مطلوبہ سیاسی نتیجے کے بغیر ختم ہوا اور قیادت و کارکن منتشر ہوگئے۔ اس کے بعد ریاستی کارروائی، گرفتاریوں اور مبینہ تشدد کو مرکزی موضوع بنا کر مظلومیت کا بیانیہ اختیار کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جس احتجاج کو فیصلہ کن سیاسی معرکے کے طور پر پیش کیا گیا ہو، اس کے نتائج کی سیاسی ذمہ داری بھی کیا اسی طرح قبول نہیں ہونی چاہیے؟

حالیہ برسوں میں بیرونِ ملک پی ٹی آئی سے وابستہ بعض احتجاجوں میں پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور عسکری قیادت کے خلاف سخت اور بعض مواقع پر توہین آمیز نعرے اور پوسٹر بھی سامنے آئے۔ یہ طرزِ عمل اس جماعت کے اس سابقہ سیاسی بیانیے کے ساتھ بھی سوال پیدا کرتا ہے جس میں ریاستی اداروں کے احترام، قانون کی بالادستی اور سیاسی اختلاف کو جمہوری دائرے میں رکھنے کی بات کی جاتی رہی ہے۔ سیاسی اختلاف ہر جماعت کا حق ہے، لیکن اپنے حامیوں کے طرزِعمل کے لیے بھی وہی معیار اختیار کرنا پڑتا ہے جو دوسروں سے متوقع ہو۔

مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارروائی کے دوران بھی پی ٹی آئی کے بیانیے میں تبدیلی کا ایک پہلو سامنے آیا۔ جنگ سے پہلے پارٹی کے بعض نمایاں رہنماؤں اور عمران خان کے خاندان کے افراد کی جانب سے پاکستان کی جنگی صلاحیت کے بارے میں خدشات کا اظہار سامنے آیا، لیکن پاکستان کی شاندار فتح کے بعد تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بیانیے میں اسے اپنی ڈیجیٹل طاقت اور سوشل میڈیا مہم کی کامیابی کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔ سوال پھر وہی ہے: پی ٹی آئی کا موقف حالات کے مطابق بدل سکتا ہے، لیکن کیا ہر بدلتے ہوئے موقف کے ساتھ پچھلے مؤقف کی وضاحت بھی ضروری نہیں؟

تحریک انصاف کی حکومت کے حوالے سے بھی وعدوں اور عملی کارکردگی کے درمیان کئی سوالات پیدا ہوئے۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے کرپشن کے خاتمے کو اپنی سیاست کا بنیادی نکتہ بنایا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت ملنے کے بعد 90 دن میں کرپشن ختم کردی جائے گی۔ لیکن خیبرپختونخوا میں احتساب کمیشن کے قیام، اس کے قانون میں ایسی ترامیم جن پر سوالات اٹھے، کمیشن کے سربراہ کے استعفے اور بالآخر کمیشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ مختلف سرکاری شعبوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات بھی سامنے آتے رہے۔ یہ صورت حال اس دعوے کے لیے ایک بڑا سوال بن گئی کہ تحریک انصاف نے صوبے میں احتساب کا مثالی نظام قائم کردیا تھا۔

اسی طرح وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کے حوالے سے بڑے اعلانات کیے گئے۔ کہیں یونیورسٹی، کہیں میوزیم، کہیں پارک اور کہیں دوسرے عوامی استعمال کی تجاویز سامنے آئیں۔ ان اعلانات نے ایک نئے طرز حکمرانی کا تاثر ضرور پیدا کیا، لیکن ان منصوبوں کی عدم تکمیل بھی پی ٹی آئی سے وضاحت کی متقاضی ہے۔

عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے حکمران کے جواب دہ ہونے کی بات کیا کرتے تھے۔ وہ حضرت عمر فاروقؓ کے کپڑوں کے واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہتے تھے کہ مدینہ کی ریاست میں ایک عام آدمی کھڑے ہو کر حضرت عمرؓ سے پوچھ سکتا تھا کہ آپ کے پاس ان کپڑوں کے پیسے کہاں سے آئے۔ حضرت عمرؓ نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری مجال کیسے ہوئی کہ مجھ سے سوال کرو، بلکہ جواب دیا، کیونکہ لیڈر جواب دہ تھا۔

وزیراعظم بننے کے بعد توشہ خانہ کے تحائف، بالخصوص تحفے میں ملنے والی گھڑی کی فروخت کے معاملے پر جب ان سے سوالات ہوئے تو ان کا جواب تھا: ’’میرا تحفہ، میری مرضی‘‘۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کے سابقہ سیاسی بیانیے اور بعد کے عملی طرزِعمل کے درمیان ایک نمایاں تضاد دکھائی دیتا ہے۔ سوال کسی فرد کے قانونی حق سے زیادہ اس سیاسی اصول کا ہے جسے عمران خان خود اقتدار میں آنے سے پہلے بیان کرتے تھے۔ اگر حکمران جواب دہ ہے، اگر عام شہری کو سوال کرنے کا حق ہے، تو یہی اصول حکمران کی اپنی ذات، اس کے اثاثوں اور اسے ملنے والے سرکاری تحائف پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف نے پاکستانی سیاست میں بہت بلند سیاسی معیار قائم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس نے دوسری جماعتوں سے کہا کہ وہ خاندانی سیاست چھوڑیں، اندرونی جمہوریت اختیار کریں، شخصیت پرستی ختم کریں، کارکنوں کو اہمیت دیں، کرپشن کے خلاف عملی اقدام کریں، عوام کے سامنے جواب دہ ہوں اور اپنے وعدے پورے کریں۔

آج اصل سوال یہ ہے کہ جن اصولوں کو پی ٹی آئی نے دوسروں کے احتساب اور تنقید کے لیے پیمانہ بنایا، کیا وہی پیمانہ اپنے لیے بھی قبول کرنے کو تیار ہے؟

کیونکہ سیاست میں اصل امتحان مخالفین کے لیے اصول بنانا نہیں، بلکہ اپنے لیے بھی وہی اصول تسلیم کرنا ہے۔ تحریک انصاف سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، لیکن اس جماعت کی اپنی تاریخ اب اتنی طویل ہوچکی ہے کہ اس کا جائزہ بھی انہی اصولوں پر لیا جانا چاہیے جن اصولوں کی بنیاد پر اس نے دوسروں کو چیلنج کیا تھا۔ یہی کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے جمہوری سیاست کا اصل امتحان ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp