پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج میں شریک کوہاٹ کے ایک کارکن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی عدم موجودگی اور احتجاجی شرکا کے لیے مناسب انتظامات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کوہاٹ سے احتجاج میں شریک کارکن نے کہاکہ بنوں، کوہاٹ، کرک، ہنگو اور دیگر اضلاع سے لوگ عمران خان کی رہائی اور حقوق کے لیے احتجاج میں شریک ہونے آئے، لیکن انہیں بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں کی گئیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی سے بات چیت کے لیے اب بھی تیار ہیں، تاہم قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، وزیراعظم
کارکن نے الزام عائد کیاکہ احتجاج کے دوران شرکا کے لیے کھانے اور ناشتے کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا اور کارکن اپنی مدد آپ کے تحت مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔
یہ ہمارے (پی ٹی آئی) احتجاج کے مناظر ہے۔ یہاں لوگ عمران خان پر ہونے والے ظلم کے خلاف جمع ہیں۔ یہ شفیع جان کا حلقہ ہے لیکن یہاں 15 بندے بھی موجود نہیں۔ شفیع جان پتہ نہیں کہاں چھپے ہوئے ہیں انہوں نے ورکرز کو اکیلا چھوڑ دیا ہے، پی ٹی آئی کارکن قیادت پر پھٹ پڑا https://t.co/pGNKI4wsyQ
— WE News (@WENewsPk) October 6, 2026
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ لوگوں کے درمیان موجود ہونے کے بجائے میک اپ کے لیے چلے گئے، جبکہ کارکن یہاں مشکلات میں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر قیادت کارکنوں کے ساتھ بیٹھے گی تو کارکن بھی قیادت کے ساتھ کھڑے ہوں گے، لیکن موجودہ صورتحال میں کارکن خود کو نظرانداز محسوس کررہے ہیں۔
کوہاٹ کے کارکن نے شفیع جان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ نہ کارکنوں کے لیے کھانے اور ناشتے کا مؤثر انتظام کیا گیا اور نہ ہی احتجاج میں لوگوں کی بڑی تعداد نظر آرہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان ان کے لیے عزیز ہیں اور ان کی رہائی کے لیے جدوجہد اپنی جگہ، تاہم اگر کارکن اور عوام احتجاج میں شریک نہ ہوں تو احتجاج کا مقصد متاثر ہوتا ہے۔
کارکن کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کے لیے عوام سے تقریباً ایک ارب 30 کروڑ روپے چندہ جمع کیا گیا، جس میں عام لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد نے ایک ہزار روپے جبکہ بعض نے 20 ہزار روپے تک چندہ دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ چندے سے جمع ہونے والی رقم کے استعمال کے حوالے سے کارکنوں کو اعتماد میں لیا جائے اور اسے صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے جس کے لیے عوام نے رقم دی ہے۔
مزید پڑھیں: ’بڑا رش ہے، بندے پہ بندہ چڑھا ہوا ہے‘، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر خواجہ آصف کا طنز
کوہاٹ کے کارکن نے کہاکہ عمران خان کی رہائی کی جدوجہد اپنی جگہ، لیکن احتجاج کے لیے مؤثر انتظام، کارکنوں کی مناسب دیکھ بھال اور واضح حکمت عملی بھی ضروری ہے۔
ان کے بقول موجودہ احتجاج میں مطلوبہ عوامی شرکت نظر نہیں آئی، جس پر پارٹی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔














