خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن پارٹی کے اندر قیادت اور ارکان کی عدم شرکت پر سوالات بھی شدت اختیار کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر چند ساتھیوں کے ہمراہ مارچ میں نمایاں ہیں، جبکہ پارٹی کے کئی اہم رہنما اور منتخب ارکان منظر سے غائب دکھائی دے رہے ہیں۔
صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وزیراعلیٰ کی سوشل میڈیا ٹیم نے ان پارٹی رہنماؤں اور ارکان کی تصاویر شیئر کرنا شروع کردی ہیں جو یا تو لانگ مارچ میں صرف حاضری لگاتے دکھائی دیتے ہیں یا مکمل طور پر غیر حاضر ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کی مذاکرات کی آفر اب بھی موجود، پی ٹی آئی پہلے لانگ مارچ ختم کرے، رانا ثنااللہ
لانگ مارچ ایم این اے شیر افضل مروت کے حلقے سے شروع ہوئی لیکن نہ وہ اس میں شریک ہوئے اور نہ ہی ان کے بھائی جو علی امین گنڈا پور کی کابینہ میں معاون خصوصی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تھے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 93 ارکان ہیں، جن میں وزرا، مشیر، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکریٹریز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا سے سینیٹرز سمیت پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کی تعداد بھی ایک بڑی سیاسی قوت ہے، لیکن ان میں سے بیشتر کی لانگ مارچ میں موجودگی نمایاں نہیں۔
پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کے 115 ارکان صوبائی اسمبلی ہیں، تاہم وہاں احتجاجی سرگرمیوں پر خاموشی نظر آ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی نے اپنا احتجاج عملاً خیبرپختونخوا تک محدود کردیا ہے؟
پارٹی قیادت کہاں ہے؟
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے لانگ مارچ میں تاحال شریک نہ ہونے پر بھی سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ صوبائی وزرا عدنان قادری، خلیق الرحمان سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی سوشل میڈیا مہم جاری ہے۔
سینیٹیر فیصل، علی امین گنڈاپور، مشتاق غنی، قاسم علی شاہ، اسد قیصر، عاطف خان، شہرام ترکئی، دیر کے ارکان اسمبلی، فخر جہان اور ریاض سمیت متعدد رہنماؤں کی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ انہوں نے لانگ مارچ کے لیے اب تک کیا کردار ادا کیا؟
مینا خان آفریدی اپنے حلقے میں تو متحرک ہے لیکن لانگ مارچ میں وہ خود کو اسٹیج سے دور رکھ رہے ہیں، نہ صرف وہ بلکہ بیشتر ارکان کی یہ کوشش ہے کہ وہ اسٹیج سے دور رہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کی سوشل میڈیا ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ لانگ مارچ میں شریک ارکان کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ صرف یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ کون مارچ میں آیا، بلکہ یہ بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے کہ کون کتنی دیر موجود رہا، کون ویڈیوز بنانے کے بعد واپس چلا گیا اور اپنے ساتھ کتنے کارکن لایا۔
کیا پارٹی کے اندر اعتماد کا بحران ہے؟
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر اس وقت مختلف دھڑے ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ سہیل آفریدی کا لانگ مارچ ناکام ہونا چاہیے، جبکہ وزیراعلیٰ پر اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے لیے دباؤ بڑھانے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔
صوبائی صدر جنید اکبر بھی متعدد مواقع پر ان کارکنوں اور رہنماؤں پر نظر رکھنے کی بات کر چکے ہیں جو ان کے بقول صرف وقت گزاری کے لیے مارچ کا حصہ بن رہے ہیں۔
یوں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا پی ٹی آئی اپنی ہی قیادت اور منتخب نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا سکے گی؟
پارٹی تنظیم بھی خاموش
پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں پارٹی تنظیم بھی خاموش ہے اور ان کی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی، جس طرح پہلے ماضی میں ہوا کرتی تھیں، پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری علی اضغر جدون جن پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ منظر سے غائب ہیں۔
اسی طرح خواتین ونگ، جو ہر موقع پر پیش پیش رہا کرتا تھا، تاہم مخصوص نشستیں نہ ملنے کے بعد وہ ونگ بھی غیر فعال ہوگیا۔
مزید پڑھیں: ایک ارب 30 کروڑ روپے چندہ کہاں گیا؟ پی ٹی آئی کارکن کا احتجاجی انتظامات پر اعتراض، سہیل آفریدی پر تنقید
خواتین ونگ کی ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جن خواتین پر ابتدا ہی سے مہربانیاں ہوتی رہیں، انہیں مختلف عہدے دیے گئے، کوئی ایم این اے، کوئی ایم پی اے، کوئی سینیٹر اور کسی کو مختلف حکومتی عہدوں پر فائز کیا گیا، تو اب ذمہ داری بھی انہی کی ہے کہ وہ میدان میں آئیں۔













