الیکٹرک گاڑیوں میں ناکامی کے بعد پورشے نے نئی حکمت عملی اختیار کرلی

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی کی مشہور اسپورٹس کاریں بنانے والی کمپنی ‘پورشے’ نے، جو اپنی پیرنٹ کمپنی ‘ووکس ویگن’ کی طرح بحالی اور اصلاحات کے عمل سے گزر رہی ہے، آئندہ کے لیے کم فروخت کے امکانات کے پیشِ نظر خود کو بڑی تبدیلیوں کے لیے تیار کر لیا ہے۔

بدھ کے روز ووکس ویگن گروپ کی جانب سے سرمایہ کاروں کو ایک ری سٹرکچرنگ  منصوبہ پیش کیا گیا جس کا مقصد مہنگے اور ٹاپ اینڈ ماڈلز کی فروخت بڑھا کر منافع کی شرح میں بہتری لانا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ کے لیے اپنے ‘بریک ایون پوائنٹ’ (بغیر نقصان کے پیداواری حد) کو کم کر کے سالانہ 2 لاکھ یونٹس سے بھی کم پر لے آئے گی، جب کہ گزشتہ سال کمپنی نے مجموعی طور پر 2,79,449 گاڑیاں فروخت کی تھیں۔ 2022ء میں اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی انٹری کے بعد سے اب تک عالمی سطح پر پورشے کی گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً 10 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس زوال کی بنیادی وجہ کمپنی کی 2 بڑی منڈیوں، چین میں مانگ کی شدید کمی اور امریکا میں عائد ہونے والے تجارتی ٹیرف کے مسائل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے جرمن کارساز کمپنی پورشے کا مزید 5 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا اعلان

وائس ش (Weissach) میں واقع کمپنی کے ڈویلپمنٹ سینٹر میں ‘کیپیٹل مارکیٹس ڈے’ کے موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مائیکل لیٹرز سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لیں گے کہ 911 جیسے ہائی اینڈ اسپورٹس ماڈلز اور پرتعیش ایس یو ویز  پر توجہ مرکوز کر کے کمپنی کو دوبارہ منافع بخش راستے پر ڈالا جا سکتا ہے۔

گزشتہ برس پورشے کا منافع کا تناسب  گر کر محض 1.1 فیصد رہ گیا تھا۔ یہ 4 سال قبل اولیور بلوم کی قیادت میں پبلک لسٹڈ ہوتے وقت مقرر کردہ ‘فراری’ کے طرز کے دہرے ہندسوں کے منافع والے اہداف سے انتہائی کم ہے۔ اولیور بلوم فی الوقت مرکزی کمپنی ‘ووکس ویگن’ کے سی ای او کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور جرمن آٹو گروپ کو بحران سے نکالنے کے لیے یونینز کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جس میں دنیا بھر سے تقریباً 1 لاکھ ملازمین کی برطرفی اور جرمنی کے 4 پلانٹس کی بندش بھی شامل ہے۔

دوسری جانب، چینی حریفوں کی جانب سے سستی الیکٹرک گاڑیوں کی وجہ سے درپیش شدید مقابلے کے تناظر میں پورشے نے بھی 2035ء تک 9,000 ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اس کی کل ورک فورس کا پانچواں حصہ بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے فیراری کی الیکٹرک کار پر ناک بھوں چڑھانے والے دنگ رہ گئے، نیلامی کا نیا ریکارڈ قائم

کمپنی کے نئے سی ای او مائیکل لیٹرز ’تعداد کے بجائے معیار اور قیمت‘ کی حکمتِ عملی پر گامزن ہیں۔ اولیور بلوم کے دور میں الیکٹرک گاڑیوں  پر ہونے والے مہنگے تجربات کی ناکامی کے بعد پورشے دوبارہ روایتی ایندھن والے ماڈلز پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنی شراکت دار برانڈ ‘آڈی’ (Audi) کے ساتھ پلیٹ فارم شیئرنگ بڑھا کر گاڑیوں کی تیاری و ترقی کے اخراجات میں کمی لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سی ای او مائیکل لیٹرز نے اپنے ایک بیان میں کہا ’ہمارا حتمی ہدف تمام ماڈلز میں جدت لا کر اور زیادہ منافع دینے والے طبقے میں نئے، پرکشش ماڈلز متعارف کروا کر اپنے منفرد اسپورٹس برانڈ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس وقت ہماری تمام تر توجہ اخراجات میں کمی لانے اور کمپنی کو مالیاتی طور پر مزید مستحکم کرنے پر مرکوز ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp