کینیڈا کی شاعرہ اور ادیبہ این کارسن نے سال 2026 کا نوبیل انعام برائے ادب اپنے نام کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: نامیاتی کیمسٹری میں اہم دریافت، کاگن اور سوئی کو نوبیل انعام مل گیا
انعام دینے والے ادارے نے جمعرات کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ان کے جرات مندانہ اور اختراعی تخلیقی کام پر دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کلاسیکی روایت کے ساتھ شوخ و شگفتہ مکالمے کے ذریعے عصری ادب کے لیے نئی اصناف تخلیق کیں۔
یہ انعام سویڈش اکیڈمی کی جانب سے دیا جاتا ہے اور اس کی مالیت 1 کروڑ 20 لاکھ سویڈش کراؤن (تقریباً 12 لاکھ ڈالر) ہے۔
کینیڈین شاعرہ اور مضمون نگار کارسن کے کام میں اکثر نظم، نثر، مکالمے اور ترجمے کا ایسا امتزاج نظر آتا ہے جو کسی ایک صنف کی حدود میں نہیں سماتا۔
وہ قدیم یونانی ادب کے تراجم کے حوالے سے خاص طور پر مشہور ہیں، جن کا ان کی تخلیقات پر گہرا اثر ہے۔ ان کے کام کا دائرہ اوپیرا کے مسودوں سے لے کر ادبی تنقید اور منظوم ناولوں تک پھیلا ہوا ہے، جن میں سنہ 1998 میں شائع ہونے والی ’آٹو بائیوگرافی آف ریڈ‘ شامل ہے۔
BREAKING NEWS
The 2026 #NobelPrize in Literature is awarded to the Canadian author Anne Carson, “for her bold and inventive oeuvre that, in playful dialogue with the classical tradition, has created new forms for contemporary literature.” pic.twitter.com/YRvlRghlGG— The Nobel Prize (@NobelPrize) October 8, 2026
ان کے اسلوب کی بہترین مثال سال 2019 کی تخلیق ’نورما جین بیکر آف ٹرائے‘ ہے، جو ایک پرفارمنس پیس ہے اور جس میں یوریپیڈیز کے ڈرامے ’ہیلن‘ کی ہیلن آف ٹرائے اور مارلن منرو کی کہانیوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: خلائی دُور بین سے ’بھوت ذرات‘ کی دریافت پر 2026 کا نوبیل انعام برائے طبیعیات
اس اعزاز کے ساتھ کارسن الیگزینڈر سولزینتسن، ایلس منرو اور ارنسٹ ہیمنگوے جیسی نامور شخصیات کی صف میں شامل ہو گئی ہیں۔ یہ انعام کتاب دوستوں کی رائے کو اکثر تقسیم کر دیتا ہے۔
اکیڈمی کو گزشتہ 120 برسوں کے بعض عظیم ادیبوں، جیسے لیو ٹالسٹائی، ورجینیا وولف اور خورخے لوئس بورخیس، کو نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اسے امریکی ادیبوں کو نظرانداز کرنے پر بھی ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے اگرچہ سنہ 2016 میں اس نے گلوکار و نغمہ نگار باب ڈیلن کو یہ انعام دیا تھا۔ اس پر یہ الزام بھی لگتا رہا ہے کہ اس کے انتخاب ضرورت سے زیادہ مبہم ہوتے ہیں۔
اکیڈمی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس نے مقبول انتخاب بھی کیے ہیں جیسے سنہ 1982 میں کولمبیا کے گابریل گارسیا مارکیز اور سنہ 2007 میں ڈورس لیسنگ۔ ان کے مطابق اکیڈمی کے کام کا ایک حصہ کم معروف ادبی روایات کو سامنے لانا اور قارئین کو اپنے افق وسیع کرنے کی ترغیب دینا بھی ہے۔
سویڈن کے ڈائنامائٹ کے موجد اور کاروباری شخصیت الفریڈ نوبیل کی وصیت کے تحت قائم کیے گئے ادب، سائنس اور امن کے شعبوں کے یہ انعامات 1901 سے دیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: نوبیل امن انعام کا مستحق ہوں لیکن ملنے کا یقین نہیں، ٹرمپ
گزشتہ سال یہ انعام ہنگری کے ادیب لازلو کراسناہورکائی نے جیتا تھا جنہیں امریکی نقاد سوزن سونٹاگ نے ’قیامت کا ماہر‘ قرار دیا تھا۔










