امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2026 کا نوبیل امن انعام حاصل کرنے کے مستحق ہیں، تاہم انہیں یقین نہیں کہ ناروے کی نوبیل کمیٹی انہیں یہ اعزاز دے گی۔ کمیٹی رواں سال کے نوبیل امن انعام کا اعلان جمعہ کو کرے گی۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کمیٹی کیا فیصلہ کرے گی، تاہم ان کا خیال ہے کہ کمیٹی کی شہرت ایسے لوگوں کو انعام نہ دینے کی ہے جو ان کی طرح ہوں۔
ٹرمپ گزشتہ سال دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ نوبیل امن انعام کے مستحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ نوبیل انعام کے لیے پھر مچل گئے، پاک بھارت جنگ بندی کا تذکرہ دوبارہ چھیڑ دیا
ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ جنوری میں وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنا 2025 کا نوبیل امن انعام کا تمغہ انہیں پیش کرکے بالواسطہ طور پر یہ اعزاز ان تک پہنچایا تھا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماچاڈو نے امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کے دوران انہیں یہ تمغہ دیا اور کہا تھا کہ تاریخ میں کوئی شخص ان سے زیادہ اس انعام کا مستحق نہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے 8 تنازعات میں کردار ادا کیا، جس کی بنیاد پر انہیں نوبیل امن انعام ملنا چاہیے۔ کمبوڈیا، اسرائیل اور پاکستان کے رہنماؤں کی جانب سے ٹرمپ کو انعام کے لیے نامزد کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان نامزدگیوں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں نوبیل انعام نہیں ملا، اب میں امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں، ٹرمپ کا ناروے کے وزیراعظم کو خط
دوسری جانب ٹرمپ کی جانب سے بعض تنازعات حل کرانے کے دعووں پر متعلقہ فریق اختلاف کرتے ہیں، جبکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششیں بھی تاحال کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں۔
رواں سال نوبیل امن انعام کے لیے پوپ لیو، بین الاقوامی فوجداری عدالت اور فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سمیت کئی شخصیات اور اداروں کے نام نمایاں امیدواروں میں لیے جا رہے ہیں۔











