ٹک ٹاک کا مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کی شفافیت اور تحفظ کے لیے نئے اقدامات کا اعلان

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹک ٹاک نے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے مواد کو سمجھنے اور اس کی شناخت میں صارفین کی مدد کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کردیا، جن میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تعلیمی وسائل میں توسیع، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اسپیم کے خلاف بہتر نظام اور مواد کی اصلیت کی تصدیق کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔

ٹک ٹاک کے مطابق نئے اقدامات کا مقصد پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ اور شفاف استعمال کو فروغ دینا، حقیقی مواد تیار کرنے والے تخلیق کاروں کا تحفظ اور صارفین کو مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کے بارے میں زیادہ آگاہی اور اختیار فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’میری آواز میرا اثاثہ‘، جاپانی وائس ایکٹر کینجیرو تسودا کا ٹک ٹاک کے خلاف تاریخی مقدمہ

کمپنی نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی کے لیے نئے تعلیمی وسائل متعارف کرائے جا رہے ہیں، جبکہ ایپ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق نیا تعلیمی مرکز بھی عالمی سطح پر دستیاب کردیا گیا ہے۔ صارفین جب ٹک ٹاک پر مصنوعی ذہانت سے متعلق اصطلاحات تلاش کریں گے تو انہیں تلاش کے نتائج میں یہ مرکز بھی دکھائی دے گا، جہاں مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کی شناخت، اس کے ممکنہ استعمال اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق رہنمائی دستیاب ہوگی۔

کمپنی نے این اے ایم ایل ای اور مصنوعی ذہانت کے ماہر ہنری اجڈر کے تعاون سے مصنوعی ذہانت کے آلات کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق ایک نئی رہنما دستاویز بھی تیار کی ہے۔

کمپنی کے مطابق وہ ان ماہر اداروں کی معاونت بھی جاری رکھے گی جو صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق آگاہی کا مواد تیار کرتے ہیں۔ نومبر 2025 میں پروگرام کے آغاز سے اب تک نو فلٹر اور ریسبری پائی فاؤنڈیشن سمیت شریک اداروں کی جانب سے تیار کیے گئے مواد کو 20 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

ٹک ٹاک کی جانب سے اس پروگرام کے لیے اب تک 40 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ رقم مختص کی جاچکی ہے اور آئندہ بھی اس کے دائرہ کار اور اثرات میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اسپیم کے خلاف بھی ٹک ٹاک اپنے نظام کو مزید بہتر بنائے گا۔ کمپنی کے مطابق نئے نظام کے ذریعے ایسے اکاؤنٹس کی شناخت کی جائے گی جو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اسپیم مواد پوسٹ کرنے کے لیے مخصوص ہوں، بالخصوص ایسے موضوعات سے متعلق مواد جو عوام کے اعتماد یا فلاح و بہبود کو متاثر کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کی پرائیویسی چرانے کا معاملہ، ٹک ٹاک امریکا کو 400 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر رضا مند

ٹک ٹاک کے مطابق پلیٹ فارم پر اسپیم پہلے ہی ممنوع ہے اور جعلی اکاؤنٹس کی بڑے پیمانے پر شناخت اور انہیں ہٹانے کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے۔ رواں سال کے پہلے 3 ماہ کے دوران 8 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ جعلی اکاؤنٹس ہٹائے گئے۔

کمپنی نے بتایا کہ مواد کی اصلیت اور شفافیت کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ٹک ٹاک نے مواد کی اصلیت اور صداقت کے اتحاد کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور مواد کی اصلیت سے متعلق اسناد کے وسیع استعمال کی حمایت بھی کر رہا ہے۔

ٹک ٹاک کے مطابق اب تک 3 ارب سے زیادہ ویڈیوز کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے طور پر نشان زد کیا جاچکا ہے، جس کے لیے مواد کی اصلیت سے متعلق اسناد، تخلیق کاروں کی جانب سے لگائے گئے لیبلز اور پوشیدہ واٹر مارکنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

ٹک ٹاک نے کہا کہ یہ اقدامات مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ صارفین کو تحفظ، زیادہ اختیار اور مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کے بارے میں بہتر آگاہی فراہم کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

کمپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی تخلیقی آلات بھی تیار کررہی ہے، جن میں اسمارٹ اسپلٹ اور اے آئی آؤٹ لائن شامل ہیں، جبکہ مینیج ٹاپکس جیسے فیچرز کی آزمائش بھی جاری ہے، جن کے ذریعے صارفین یہ طے کرسکیں گے کہ انہیں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کتنا دکھایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp