پی ٹی آئی کے 13 سال، چارسدہ کا ایک سوال: ضلع صحت کی سہولیات سے محروم کیوں؟

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے لیکن اس کے باوجود چارسدہ میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی بالخصوص صحت کے شعبے کی صورتحال ایک بڑا سوال بن کر سامنے آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’تیار رہیں تاکہ عمران خان کو جیل سے نکالا جاسکے‘، سہیل آفریدی کا چارسدہ جلسے سے خطاب

اس تمام عرصے میں چارسدہ کے عوام نے بھی انتخابات میں پی ٹی آئی پر مسلسل اعتماد کا اظہار کیا۔ سنہ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے چارسدہ سے صوبائی اسمبلی کی 4 اور قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں جیتیں جبکہ سنہ 2024 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی پانچوں اور قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں اپنے نام کر کے ضلع میں کلین سویپ کیا۔

چارسدہ میں پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں میں سے بعض اہم صوبائی وزارتوں پر بھی فائز رہے ہیں۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں بھی افتخار احمد، عارف احمد زئی اور فضل شکور سمیت پی ٹی آئی کے ارکان مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔

ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ مسلسل سیاسی نمائندگی اور صوبائی حکومت میں اثر و رسوخ کے باوجود چارسدہ میں ایسا کون سا بڑا منصوبہ مکمل ہوا جسے عوام اس حکومت کی نمایاں کارکردگی قرار دے سکیں؟

یہ سوال خاص طور پر اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب ضلعے کا سب سے بڑا سرکاری طبی مرکز ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال چارسدہ تک سہولیات سے عاری ہے۔

تقریباً 18 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے اہم طبی مرکز ہونے کے باوجود ڈی ایچ کیو اسپتال میں طویل عرصے تک ٹراما سینٹر، ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین جیسی سہولیات کا فقدان رہا۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں ماہر ڈاکٹرز کی دستیابی بھی سوالات کی زد میں ہے۔ نتیجتاً مریضوں کو پیچیدہ طبی معاملات میں پشاور ریفر کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیے: این اے 25، چارسدہ میں جیت کس کی ہوگی؟

جماعت اسلامی یوتھ چارسدہ کے نائب صدر نوید خان نے پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 13 سالہ حکومت کے باوجود چارسدہ میں کوئی ایسا بڑا منصوبہ نہیں بنایا گیا جسے عوام حکومت کا کارنامہ قرار دے سکیں۔ ان کے مطابق ٹراما سینٹر منظور ہونے کے باوجود اس کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے گئے جبکہ اسپتال میں نفسیات اور آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز سمیت دیگر طبی سہولیات بھی ناکافی ہیں۔

نوید خان کا کہنا تھا کہ اگر اسپتال میں اسٹاف مکمل ہے تو انتظامیہ کے ساتھ اسپتال کا دورہ کر کے صورتحال خود دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایمرجنسی میں مریضوں کو ادویات باہر سے خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

تاہم اسپتال انتظامیہ ان دعوؤں کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتی۔ ڈی ایچ کیو اسپتال چارسدہ کے میڈیکل سپرنٹینڈینٹ ڈاکٹر محمد عارف کے مطابق اسپتال کو اس وقت ادویات، آلات و مشینری اور اسٹاف کے حوالے سے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے تاہم انتظامیہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ڈاکٹر محمد عارف کے مطابق اسپتال میں اسپیشلائزڈ ٹراما سینٹر پہلے موجود نہیں تھا لیکن اسے قائم کرنے پر کام جاری ہے اور ان کے مطابق تقریباً 9 سے 10 دن میں یہ مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹراما سینٹر میں ضروری آلات، ایمرجنسی ادویات اور تربیت یافتہ ڈاکٹرز، پیرا میڈکس اور نرسنگ اسٹاف دستیاب ہوگا۔

ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین کے حوالے سے ڈاکٹر محمد عارف نے واضح کیا کہ یہ سہولیات ڈی ایچ کیو اسپتال میں قائم کی جا سکتی ہیں اور دونوں منصوبے حکومتی سطح پر تھرڈ پارٹی یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منظور ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق ٹینڈرنگ سمیت ضروری مراحل مکمل کیے جا چکے ہیں اور اب معاہدہ دینے کا مرحلہ باقی ہے۔

تاہم اسپتال آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کی شکایات صورتحال کا ایک مختلف رخ سامنے لاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: لنڈی کوتل کے واحد اے کیٹیگری اسپتال کے لیے 72 کروڑ روپے منظور، تمام فنڈز ٹائلز اور مرمت پر لگ جانے کا دعویٰ

اپنے دوست کو ٹیسٹ کے لیے اسپتال لے کر آئے فہیم جان نے شکایت کی کہ ایمرجنسی وارڈ میں پہلے مل جانے والی ادویات بھی اب دستیاب نہیں اور زیادہ تر چیزیں باہر سے خریدنی پڑتی ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ اگر ایمرجنسی کے مریض کو فوری سہولت نہ مل سکے تو صحت کارڈ کا فائدہ کیا ہے؟

ایک اور مریض امیر نواز نے اسپتال کی وہیل چیئرز اور دیگر بنیادی سہولیات کی صورتحال پر شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بسا اوقات مریض کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے 2،3 افراد کو وہیل چیئر سنبھالنی پڑتی ہے۔

ان کے مطابق چارسدہ کے اس بڑے سرکاری اسپتال کو منتخب نمائندوں کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

سردریاب سے تعلق رکھنے والے سید عالم نے اپنی والدہ کے علاج کے دوران پیش آنے والی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کی جانب سے انڈوسکوپی اور دیگر ٹیسٹ تجویز کیے جانے کے بعد وہ صبح ساڑھے 8 بجے سے دوپہر ڈھائی بجے تک اسپتال کے چکر لگاتے رہے لیکن متعلقہ کاؤنٹر اور سیٹوں پر عملہ موجود نہیں تھا۔

نوید خان نے کہا کہ یہ شکایات صرف ایک اسپتال کی انتظامی خامیوں کی نشاندہی نہیں کرتیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ جب ایک ضلع کے عوام مسلسل انتخابی طور پر کسی جماعت کو کامیاب کر رہے ہوں اور اس جماعت کے نمائندے صوبائی حکومت میں اہم عہدوں پر موجود ہوں تو پھر بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اتنی تاخیر کیوں؟

چارسدہ کا معاملہ دراصل گورننس، ترجیحات اور جواب دہی کے وسیع تر سوال سے جڑا ہوا ہے۔ سیاسی نمائندگی صرف انتخابات جیتنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ عوام اپنے منتخب نمائندوں سے اسپتال، اسکول، سڑک، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی چاہتے ہیں۔

فہیم جان نے پی ٹی آئی نمائندگان پر زور دیا کہ آپ آگے آئیں اور عوام کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں.

چارسدہ میں پی ٹی آئی کی مسلسل انتخابی کامیابی کے باوجود اگر ایک بڑے سرکاری اسپتال میں ادویات، ماہر ڈاکٹرز، تشخیصی مشینری اور ٹراما کیئر جیسی بنیادی سہولیات ابھی بھی زیر تکمیل ہوں تو یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ کیا مسئلہ وسائل کی کمی ہے، حکومتی ترجیحات کا ہے یا گورننس کے نظام میں کہیں بنیادی خرابی موجود ہے؟

یہ بھی پڑھیے: خیبر میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیلنے لگا، ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجادی

یہی وہ سوال ہے جس کا جواب چارسدہ کے عوام اپنے منتخب نمائندوں اور صوبائی حکومت سے چاہتے ہیں۔ دیکھیے انیس ٹکر کی یہ ویڈیو رپورٹ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp