بلوچستان میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے حاضری نظام، طبی عملے کے تحفظات کیوں؟

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 محکمہ صحت بلوچستان نے سرکاری اسپتالوں، میڈیکل کالجز اور طبی اداروں میں حاضری کا نظام جدید بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی موبائل ایپلی کیشن متعارف کراودی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کا نظام صحت ڈیجیٹلائزیشن کی جانب، یونیورسٹی آف اوسلو سے اہم معاہدہ

محکمہ صحت کے مطابق نئے نظام کے تحت تمام ملازمین کو صرف سے آئی اٹینڈنس موبائل ایپ کے ذریعے حاضری لگانی ہوگی جبکہ دستی یا غیر منظور شدہ حاضری قبول نہیں کی جائے گی۔

حاضری کے نظام میں غفلت یا خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی اور غیر حاضری کی بنیاد پر تنخواہ میں کٹوتی بھی کی جا سکتی ہے۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل حاضری نظام کا مقصد سرکاری طبی اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط یقینی بنانا، ملازمین کی بروقت حاضری کی نگرانی کرنا اور محکمہ صحت میں جاری ڈیجیٹل اصلاحات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

تاہم پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایسوسی ایشن بلوچستان نے نئے نظام کے طریقہ کار اور تکنیکی پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حاضری کا نظام ہونا چاہیے اور ایسوسی ایشن بھی ڈاکٹروں اور دیگر ملازمین کی حاضری کے خلاف نہیں تاہم نظام کو بلوچستان کی زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ متعارف کرائی گئی ایپلی کیشن کے حوالے سے کئی تکنیکی مسائل ہیں جبکہ ملازمین کا بائیومیٹرک ڈیٹا، تعلیمی اسناد، دستاویزات اور دیگر ذاتی معلومات ایپلی کیشن کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں جس کے ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔

مزید پڑھیے: بلوچستان میں جدید ڈیجیٹل طبی نظام متعارف، صحت کی سہولیات بہتر ہونے لگیں

ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق مذکورہ ایپلی کیشن تھرڈ پارٹی ایپلی کیشن ہے اور ملازمین کے موبائل فون میں موجود دیگر ڈیٹا کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں جبکہ ہر ملازم کے لیے اسمارٹ فون استعمال کرنا بھی ممکن نہیں خاص طور پر کلاس فور اور دیگر نچلے گریڈ کے ملازمین کے لیے موبائل ایپ کے ذریعے حاضری لگانا عملی طور پر مشکل ہوسکتا ہے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پر ملازمین ایپلی کیشن میں اپنی معلومات اور دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود حاضری کے نظام میں مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ بعض اوقات حاضری اور لوکیشن کے ریکارڈ میں بھی تضاد سامنے آتا ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی حاضری یقینی بنانے کے لیے کیمرے نصب کیے گئے تھے تاہم بعض مقامات پر یہ کیمرے ناکارہ ہوگئے یا مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے لیے ایئر ایمبولینس سمیت 11 بڑے صحت منصوبوں کا افتتاح کردیا

ان کے بقول اگر حکومت حاضری کا نظام مؤثر بنانا چاہتی ہے تو ایسے کیمرہ یا دیگر ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کو مضبوط کیا جائے جس میں ملازمین کو اپنے ذاتی موبائل فون کے ذریعے حساس معلومات فراہم نہ کرنا پڑیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت حاضری کا نظام ضرور نافذ کرے، لیکن اسے اس انداز میں نافذ کیا جائے کہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی، ملازمین کی تکنیکی استعداد اور ڈیٹا سیکیورٹی جیسے مسائل بھی حل ہوں۔

تجزیہ کا مؤقف ہے کہ بلوچستان جیسے وسیع رقبے اور دشوار جغرافیائی حالات والے صوبے میں ڈیجیٹل حاضری کا نظام سرکاری اداروں میں ملازمین کی حاضری اور نگرانی بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے تاہم اس کی کامیابی صرف ایپلی کیشن متعارف کرانے سے نہیں بلکہ اس کی تکنیکی فعالیت، انٹرنیٹ کی دستیابی، لوکیشن کی درستگی اور ذاتی معلومات کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بچوں کی جسمانی صحت کی بہتری کے لیے بلوچستان میں ہزاروں طلبا کی ہیلتھ اسکرینگ کا آغاز

ایک طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ اے آئی حاضری نظام سے غیر حاضری پر قابو پانے اور محکمہ صحت میں نظم و ضبط بہتر بنانے میں مدد ملے گی تو دوسری جانب طبی عملے کے نمائندے نظام کو زمینی حقائق کے مطابق بنانے اور ڈیٹا سیکیورٹی کے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یوں اصل چیلنج حاضری کا ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا نہیں بلکہ اسے قابل اعتماد، محفوظ اور بلوچستان کے تمام علاقوں میں قابل عمل بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp