بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والی طالبہ کے ساتھ مبینہ تعلیمی فراڈ کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لائبہ اعجاز نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکی یونیورسٹی میں مزید تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ کی لاش گرین بیلٹ سے برآمد
اہلِخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک تعلیمی کنسلٹنٹ نے داخلے اور اسکالر شپ کے انتظام کے لیے قریباً 70 لاکھ روپے طلب کیے، جبکہ پلاٹ فروخت کرنے اور زیورات گروی رکھنے سمیت مختلف ذرائع سے رقم کا انتظام کیا گیا۔ بعد میں داخلے، اسکالرشپ اور دیگر دستاویزات جعلی نکلیں۔
دستاویزات کے جعلی ہونے کا علم ہونے کے بعد لائبہ اعجاز شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ تاہم رقم کی حتمی مقدار، دستاویزات کی حیثیت اور مبینہ فراڈ کے واقعے سے تعلق کی تصدیق کے لیے تفتیش کا عمل جاری ہے۔
پولیس کے مطابق لائبہ اعجاز کی لاش 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں تھانہ رمنا کی حدود میں اتوار بازار کے قریب گرین بیلٹ سے ملی۔ پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔
ابتدائی طور پر واقعہ مشتبہ خودکشی کا معلوم ہوا، تاہم موت کے حالات اور اس کے ممکنہ اسباب کا تعین تفتیش کے ذریعے کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:پاکستان انٹرنیشنل اسکرین ایوارڈز کے لیے نامزدگیوں کا اعلان، کون کون شامل ہے؟
پولیس حکام مبینہ ایجنٹ کے کردار، مالی لین دین، دستاویزات کی صداقت اور طالبہ کی موت سے ان معاملات کے ممکنہ تعلق کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاحال دستیاب رپورٹس میں کسی حتمی پولیس نتیجے یا ملزم کے خلاف ثابت شدہ جرم کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
واقعے نے بیرونِ ملک تعلیم کے خواہش مند طلبہ اور ان کے اہلِخانہ کو دھوکا دہی سے بچانے، تعلیمی کنسلٹنٹس کی جانچ پڑتال اور مبینہ فراڈ کی مؤثر تحقیقات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔














