خیبر پختونخوا میں وہ ہوچکا ہے جس کا خدشہ تھا۔ ایمرجنسی لگ گئی، تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ختم ہوئی۔ پارٹی کے حامی صدمے میں ہیں، کچھ غصے سے بھرے بیٹھے ہیں اور سوشل میڈیا پر وہی پرانا ماتم جاری ہے کہ بس جی، اب سب ختم ہوگیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں۔ انگریزی محاورے کے مطابق اٹس ناٹ اینڈ آف دا ورلڈ۔ سیاسی جماعتوں پر اس سے کہیں زیادہ برے دن آتے رہے ہیں، مگر ان کا کم بیک ہوا ہے۔ بس مناسب وقت کا انتظار کرتے ہوئے، اپنی غلطیاں سدھارنے اور ماضی سے سبق سیکھ کر درست حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
تحریک انصاف کی سیاست بھی ختم نہیں ہوگئی۔ جو ہوگیا سو ہوگیا، اس پر سر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آگے بڑھا جائے، مگر کیسے؟ آج اسی پر بات کرتے ہیں کہ تحریک انصاف اب کرے کیا؟
یہ پہلی بار نہیں ہوا
ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں جماعتوں اور ان کی قیادت پر ایسے وقت ایک سے زیادہ بار آئے جب سب کچھ ان کے ہاتھ سے چھن گیا۔ یوں لگا کہ اب شاید یہ کبھی واپس نہیں آسکیں گے۔ دونوں کی واپسی ہوئی، بار بار ہوئی۔ اقتدار بھی ملا، صوبائی حکومتیں بھی اور سیاسی اہمیت بھی ختم نہیں ہوئی۔ یہی سب کچھ تحریک انصاف کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
پہلے اپنا احتساب کریں
میرے خیال میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ تحریک انصاف ٹھنڈے دل سے اپنی حکمت عملی کا تجزیہ کرے۔ پچھلے 4 برسوں میں کہاں ٹھوکر لگی؟ یہ وقت اپنے بے رحم احتساب کا ہے۔ خاص کر پچھلے دو ڈھائی برسوں میں کون سی غلطیاں تھیں جن سے بچا جا سکتا تھا؟
اپنا احتساب کسی کو اچھا نہیں لگتا۔ دوسروں پر الزام دھرنا آسان ہے، اسٹیبلشمنٹ پر، حکومت پر، عدالتوں پر۔ یہ سب اپنی جگہ، مگر جو جماعت اپنی غلطیاں نہیں مانتی وہ انہیں دہراتی رہتی ہے۔
جذباتیت اور بڑھکیں
ابھی ایمرجنسی سے پہلے کے دن یاد کریں۔ یہ پانچ چھ دن پرانی بات نہیں ہے، اس لیے ہر ایک کو اچھی طرح یاد ہوگی۔ صوبائی وزرا، خود وزیراعلیٰ اور بعض دوسرے رہنما کس لہجے میں بات کر رہے تھے؟ لانگ مارچ کو روک کر دکھاؤ۔ ایمرجنسی لگا کر دکھاؤ۔ ہمت ہے تو گورنر راج لگاؤ۔
بھائی لوگو، ان بڑھکوں کا کیا فائدہ ہوا؟ ایمرجنسی بھی لگ گئی، مگر آپ کو کیا ملا؟
کیا تحریک انصاف واقعی سمجھ رہی تھی کہ کال دیں گے اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے؟
کوئی بھی غیر جانبدار آدمی بتا سکتا تھا کہ لوگ اس وقت احتجاج کے موڈ میں نہیں ہیں۔ مہنگائی نے کمر توڑ رکھی ہے، احتجاج کے جو پچھلے تجربات ہوئے، ان کے بعد خود پارٹی کے اندر بھی بددلی تھی، مورال ڈاون تھا۔ ویسے بھی عام آدمی ووٹ دینے تو نکل آتا ہے، مگر ہر دوسرے مہینے ڈنڈے کھانے نہیں نکلتا۔ وہ نہیں نکلا اور ویسا ہی ہوا جیسا اندازہ تھا۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ مس کیلکولیشن پہلی بار نہیں ہوئی۔ ہر بار پی ٹی آئی لیڈروں کو خواب سا آتا ہے کہ اس بار عوام کا سیلاب آئے گا، ہر بار نتیجہ مختلف نکلتا ہے، مگر بدقسمتی سے اگلی کال پہلے سے بڑی بڑھک کے ساتھ دی جاتی ہے، نتیجہ زیادہ بُرا انجام ۔
کی بورڈ واریئرز نے فائدہ پہنچایا یا نقصان؟
اپنا احتساب کرتے ہوئے تحریک انصاف یہ سوال بھی اپنے آپ سے پوچھے کہ باہر بیٹھے کی بورڈ واریئرز اور ولاگرز نے پارٹی کو فائدہ پہنچایا یا نقصان؟
حقیقت یہ ہے کہ یوکے اور امریکا میں بیٹھے بعض انصافین ولاگرز نے تحریک انصاف کے مسائل بڑھائے ہیں۔ اشتعال انگیز ٹوئٹس، بھڑکانے والے ولاگز اور پارٹی پر مسلسل غیر ضروری دباؤ۔ جو رہنما ذرا تحمل سے بات کرتا، اسے فوراً بزدل اور کمپرومائز ہونے کا طعنہ مل جاتا۔ ستم ظریفی ہے کہ جو ولاگرز ملک سے بھاگے ہوئے ہیں، وہ باہر بیٹھ کر دوسروں کو عزیمت اور قربانی دینے کے سبق پڑھا رہے ہیں۔
ابھی چند دن پہلے میری ایک پوسٹ پر کسی صاحب نے ایک معروف ولاگر کے بعض ٹوئٹس نقل کیے۔ ہمارے دوست ہیں وہ، کیا نام لینا۔ ٹوئٹس میں وہ بار بار طعنہ دے رہے تھے کہ ایمرجنسی ابھی تک تو نہیں لگی، آج لگنی تھی، دوپہر ہوگئی، کچھ نہیں ہوا۔ کیا ڈر گئے؟ وغیرہ وغیرہ۔
کیا واقعی یہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ ایمرجنسی نہیں لگے گی؟ مجھے حیرت ہوگی اگر وہ ایسا سمجھتے تھے۔ ہماری سیاست کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا تھا کہ معاملہ کس طرف جارہا ہے۔ تو پھر یہ طعنے اور طنز کس لیے تھے؟ ویوز کے لیے؟
انگلینڈ، امریکا میں بیٹھ کر انقلاب کی کال دینا آسان ہے۔ مقدمات تو پشاور، مردان اور سوات کے کارکن پر بنتے ہیں۔ جیل وہ بے چارہ جاتا ہے، اس کے گھر والے رُل جاتے ہیں۔
اب تحریک انصاف کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کی پالیسی پارٹی کے اندر بنے گی یا ٹوئٹر ٹرینڈ دیکھ کر؟
گورننس بھی تو کوئی چیز تھی
یہ بھی اپنی جگہ درست بات ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو اپنی پرفارمنس پر توجہ دینی چاہیے تھی۔ سیاسی احتجاج ساتھ چلتا رہتا، اس میں کوئی حرج نہیں، مگر لوگوں کے کام تو ہونے چاہییں تھے۔
خیبر پختونخوا کے لوگوں نے تحریک انصاف کو مسلسل 3 بار مینڈیٹ دیا۔ اس اعتماد کا جواب مگر کیا ملا؟ ترقیاتی کام رکے رہے، دفتروں میں فائلیں پڑی رہیں، دہشتگردی سر پر کھڑی تھی اور حکومت کی ساری توانائی اسلام آباد کی طرف مارچ کی تیاریوں میں لگی رہی۔ گورننس بُری رہی، یہ بات پارٹی کے اپنے لوگ بھی نجی محفلوں میں مانتے ہیں۔
صوبے میں پارٹی کی سپورٹ اب بھی موجود ہے، مگر لوگوں کا اتنا امتحان بھی نہیں لینا چاہیے۔ ووٹر کو بھی اسکول، اسپتال، سڑکوں وغیرہ میں بہتری اور نوکری چاہیے۔ جس حکومت کے کام بولتے ہوں، اسے ہٹانا مشکل ہوتا ہے اور ہٹانے والے کو جواز بھی نہیں ملتا۔
پارلیمنٹ کو آزمائیں
تو اب کیا کیا جائے؟ سب سے پہلے تو تحریک انصاف پارلیمانی اپوزیشن کرنا سیکھے۔ پرشور احتجاج اور مارچ ، دھرنوں کے بغیر بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ 2008 سے 2013 کے دوران چوہدری نثار علی خان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے۔ ان سے آپ لاکھ اختلاف کریں، مگر انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو ایوان کے اندر جس طرح ٹف ٹائم دیا، وہ سب کو یاد ہے۔ لانگ مارچ، نہ دھرنا، مگر حکومت دباؤ میں رہی۔ برطانیہ میں اپوزیشن باقاعدہ شیڈو کابینہ بناتی ہے اور ہر وزیر کے محکمے پر ایک رکن نظر رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں اپوزیشن کا اصل کام یہی ہے۔
تحریک انصاف کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی پارلیمنٹ میں دلچسپی لیں۔ تیاری کرکے آئیں، وقفہ سوالات میں وزرا کو گھیریں، پوائنٹ آف آرڈر پر بولیں، قائمہ کمیٹیوں میں حکومت کا حساب کتاب کھنگالیں۔ جب کوئی رکن ٹھوس دلائل سے کسی وزیر کو لاجواب کرتا ہے تو وہ کلپ بھی وائرل ہوتا ہے اور اس کی ساکھ بھی بنتی ہے۔ واک آؤٹ کرکے باہر نعرے لگانا آسان ہے، اصل امتحان اندر بیٹھ کر بولنا ہے۔
گرینڈ الائنس اور انگیجمنٹ
دوسرا کام یہ کہ تحریک انصاف گرینڈ الائنس کی طرف جائے اور پولیٹیکل انگیجمنٹ کی پالیسی اپنائے۔ ہماری تاریخ میں اپوزیشن جب بھی کامیاب ہوئی، اکٹھی ہوکر ہوئی۔ ضیاالحق کے دور میں ایم آر ڈی بنی۔ مشرف دور میں اے آر ڈی بنی جس میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک میز پر بیٹھیں، وہی جماعتیں جو 90 کی دہائی میں ایک دوسرے کا وجود برداشت نہیں کرتی تھیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان ساری زندگی یہی کرتے رہے، مخالفوں کو ایک چھت تلے جمع کرنا۔ خود تحریک انصاف کے خلاف پی ڈی ایم اتحاد کارگر رہا۔
تحریک انصاف کی مشکل یہ رہی کہ اس نے برسوں دوسری جماعتوں کو چور ڈاکو کہا اور ہر ہاتھ ملانے کو غداری سمجھا۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ جماعت اسلامی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کی ہے، اس سے بات کی جائے۔ محمود خان اچکزئی تو تحریک انصاف کے ساتھ ہیں، مگر اب مولانا فضل الرحمان کو بھی ساتھ ملانا چاہیے۔ سندھ میں جی ڈی اے ، پیر پگارا اور دیگر اینٹی پیپلزپارٹی عناصر کو اکٹھا کیا جائے۔ چھوٹے گروپس سے بھی بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مشترکہ نکات طے ہوں اور اسمبلی کے اندر مل کر جدوجہد کی جائے۔ ایک جماعت اکیلی آواز اٹھائے تو اسے دبانا آسان ہے، پانچ چھ جماعتیں ایک آواز میں بولیں تو حکومت کو سننا پڑتا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ سے فاصلے کم کریں
تیسری اور شاید سب سے اہم بات یہ کہ تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے فاصلے کم کرے، کشیدگی گھٹائے۔
یہ بات بہت سے انصافین کو بُری لگے گی، مگر حقیقت یہی ہے۔ ہمارے ہاں کوئی جماعت مستقل ٹکراؤ کی پالیسی کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکی۔ نواز شریف کی مثال سامنے ہے۔ 2017 کے بعد ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ چلا، بڑے سخت جلسے ہوئے، مگر واپسی کا راستہ تب بنا جب لہجہ بدلا اور معاملات سلیقے سے کیے گئے۔ آصف زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے والی تقریر کی، پھر خود ہی رخ بدل لیا اور آج پیپلز پارٹی حکومتی بندوبست کا حصہ ہے۔ اس پر جتنا چاہے تنقید کریں، یہ بہرحال پاکستان کے معروضی زمینی حقائق ہیں اور انہیں ماننے ہی میں دانش مندی ہے۔
فاصلے کم کرنے کا مطلب ٹوٹل سرنڈر نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ غیر ضروری تلخی ختم کی جائے، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو اون کیا جائے۔ بیانات میں اداروں کو نشانہ نہ بنایا جائے اور ایسے رابطے بحال ہوں جن سے بات آگے بڑھ سکے۔
یاد رکھیں، ایمرجنسی ختم بھی ہوسکتی ہے۔ معاملات بہتر بھی ہوسکتے ہیں۔ اسیر رہنما باہر بھی آسکتے ہیں۔ یہ سب ممکن ہے، بشرطیکہ سوچ سمجھ کر اور سلیقے سے معاملات کیے جائیں۔ دیوار سے سر ٹکرانے سے دیوار نہیں گرتی، سر ہی زخمی ہوتا ہے۔
آخری نکتہ
تحریک انصاف کو کامیابی حاصل کرنے کے لیے حکمت، صبر اور درست حکمت عملی چاہیے۔ بے مقصد نعرے بازی اور سمندر پار بیٹھے ولاگرز کی بڑھکیں مدد نہیں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ اگر تحریک انصاف نے اس دھچکے سے سبق سیکھ لیا، اپنی غلطیاں مان لیں اور سڑک کے بجائے ایوان، اتحاد اور مکالمے کا راستہ اپنایا تو یہ ایمرجنسی اس کے لیے نئی شروعات بھی بن سکتی ہے۔
اللہ کرے ہماری سیاست کا رخ ٹکراؤ سے ہٹ کر مکالمے کی طرف مڑے، سیاسی کشیدگی کم ہو اور معاملات میںبہتری آئی۔ خیبر پختونخوا دہشتگردی سے متاثرہ زخمی صوبہ ہے، اسے اور اس کے عوام کو سکون نصیب ہو، آمین۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












