سندھ کی دیہی خواتین: گھر اور باہر کی انگنت ذمہ داریاں صرف انہی کے ذمے کیوں؟

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کے دیہی علاقوں میں عورت کی زندگی آج بھی انہی قدیم روایات، کٹھن حالات اور ان گنت ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے جس میں اس کے لیے سہولیات کا تصور بھی ناپید ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین پر گھر کے ذہنی بوجھ کی ذمہ داری زیادہ کیوں، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

ضلع میرپورخاص کے تاریخی شہر نوکوٹ کے قریب واقع گاؤں کی ایک خاتون کی روزمرہ زندگی اس حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

ان کا دن سورج نکلنے سے بہت پہلے شروع ہوتا ہے۔ ان کو پینے کا صاف پانی حاصل کرنے کے لیے شدید گرمی اور صحرائی راستوں پر کئی کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ پانی کا گھڑا سر پر اٹھا کر روزانہ کی یہ مشقت صرف ان کی اپنی ضرورت نہیں بلکہ پورے کنبے کی بقا سے جڑی روزمرہ کی ایک آزمائش ہے۔

​پانی لانے کا یہ تھکا دینے والا مرحلہ طے کرنے کے بعد بھی اس خاتون کو آرام کا ایک لمحہ میسر نہیں آتا کیونکہ گھر کی چولہا چکی، صفائی ستھرائی اور اناج کی صفائی جیسے محنت طلب کام ان کے منتظر ہوتے ہیں۔

سندھ کی دیہی زندگی میں سب سے زیادہ مشکلات اور صحت کے مسائل انہی خواتین کو پیش آتے ہیں جو لکڑیوں کا دھواں برداشت کرتے ہوئے کچے چولہوں پر کھانا پکاتی ہیں اور کھیتوں سے لے کر گھر کے آنگن تک ہر کام میں بھرپور حصہ لیتی ہیں۔

مزید پڑھیے: مردوں کے مقابلے میں خواتین درد زیادہ کیوں محسوس کرتی ہیں؟ جانیے 118 ممالک کے لاکھوں افراد پر کی گئی تحقیق کے انکشافات

سندھ کی یہ باہمت خواتین کسی شکوے کے بغیر صبح سے رات گئے تک خاموشی سے اپنے خاندان کا سہارا بنی ہوئی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ دور جدید میں بھی دیہی خواتین کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھ کر یہ کٹھن زندگی گزارنے پر کب تک مجبور رکھا جائے گا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp