دو قومیں، دو نسلیں

جمعرات 15 اکتوبر 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عمران خان پہلے پاکستانی لیڈر نہیں جنہوں نے ایک پوری نسل کو تباہی کے راستے پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ان سے قبل یہ کام الطاف حسین بدترین شکل میں انجام دے چکے۔ یاد کیجیے وہ وقت جب پورا پاکستان مانتا تھا کہ کراچی کی اردو سپیکنگ برادری پاکستان کی سب سے تعلیم یافتہ اور باشعور قوم ہے۔ آپ میں سے اکثریت نے تو وہ قوم اور ان کا شعور دیکھا ہی نہ ہوگا۔ ہم نے لڑکپن اور جوانی انہی کے بیچ رہ کر دیکھی۔ وہ 80 کی دہائی کا پہلا نصف تھا جب ہمیں یہ قرب نصیب ہوا۔ ہماری خوش قسمتی کہ اپنے قدموں سے چل کر ہجرت کا سفر کرنے والی آخری نسل ابھی معقول تعاد میں موجود تھی۔ ان کے بعد والی نسل فعال نسل کے طور پر کراچی کی پہچان تھی، جبکہ وہ تیسری نسل لڑکپن میں تھی جس سے ہمیں اپنے حصے کے دوست ملے۔

نومبر 1994 میں ہم اسلام آباد منتقل ہوئے تو اگلے 25 سال یہیں رہے۔ یوں ہم نے وہ دور بھی اپنی نظروں سے دیکھا جب پنجابی پاکستان کی سب سے تعلیم یافتہ قوم کا درجہ حاصل کر گئے۔ عمر کے 25 برس اردو سپیکنگ، اور اتنے ہی سال پنجابیوں کے ساتھ گزارنے کا ہمیں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ہم ان دونوں اقوام سے متعلق سنی سنائی کہانیوں کے اسیر نہیں۔ ہم ان کی کہانی کا باقاعدہ حصہ رہے۔ انہیں ان کی خوبیوں اور خامیوں سمیت بہت قریب سے دیکھ رکھا ہے۔

ان دونوں اقوام کے حوالے سے ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ انہیں متعصب مانا جاتا ہے، اور اس حد تک مانا جاتا ہے کہ یہاں کراچی میں کچھ ہی عرصہ قبل ایک اردو سپیکنگ جماعتیے نے ہمیں خاصے پر یقین لہجے میں آگاہ کیاکہ پنجابی شدید قسم کے متعصب ہوتے ہیں۔ ہم نے پوچھا، کیا آپ پنجابیوں میں رہے ہیں؟ جواب انکار میں آیا۔ سو ہم نے اگلا سوال کیاکہ اگر آپ ان میں رہے ہی نہیں ہیں تو پھر انہیں متعصب کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ان کی بدقسمتی کہ طنزیہ پوچھ بیٹھے، کیا آپ پنجابیوں میں رہے ہیں؟ ہم نے بتا دیا کہ پورے 25 سال رہے ہیں۔ جواب یہ آیا کہ پنجابیوں نے آپ پر کوئی احسان کیا ہوگا اسی لیے آپ ان کی وکالت کررہے ہیں۔ ہم نے جواب دیا۔

’ہم پورے 25 سال اسلام آباد اور پنجاب میں اردو سپیکنگ لوگوں کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ وجہ یہی تھی کہ ہم پختون تھے مگر کراچی کے اردو سپیکنگ بزرگوں، اور ان کے بعد والی فعال نسل نے ہماری قومیت کی پروا کیے بغیر ہمیں وہ سب منتقل کیا تھا جس نے ہماری تعمیر میں اساسی کردار ادا کیا۔ اور ظاہر ہے یہ ان کا احسان ہی تھا۔ اب ہم کراچی واپس آئے ہیں تو عمر کے بقیہ حصے میں پنجابیوں کی وکالت کا ہی ارادہ ہے۔ کیونکہ جو 25 سال ہم نے ان میں گزارے، وہ پنجابیوں کے بہت سے احسانات سے لباب ہیں۔‘

حیران کن بات یہ ہے کہ صرف دیگر قومیں ہی ان دونوں اقوام کو متعصب نہیں سمجھتیں، بلکہ یہ دونوں خود بھی ایک دوسرے کو متعصب مانتی ہیں۔ کراچی کی عثمانیہ سوسائٹی پچھلے 42 سال سے ہماری فیملی کا مرکز ہے۔ ہماری والدہ اور تین بھائی اب بھی وہیں سکونت رکھتے ہیں۔ اگر آپ نے 90 کی دہائی والے بدنام زمانہ کھجی گراؤنڈ کا نام سنا ہو تو یہ ہمارے گھر سے بمشکل ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ ہم 9 بھائی اپنے والدین کے ساتھ اس دور میں بھی وہیں رہے۔ ہماری باہمی زبان ہمیشہ پشتو رہی ہے۔ مگر ان طویل سالوں میں کبھی ایک بار بھی کسی تعصب کا نشانہ نہیں بنے۔ ایک دو بار دو چار افراد نے ذاتی وجوہات کے تحت ہمارے خلاف نسلی تعصب کا کارڈ کھیلنے کی کوشش ضرور کی مگر اہل محلہ نے انہیں گھاس ہی نہ ڈالی۔ جب کوئی قوم واقعتاً بطور قوم متعصب ہوتی ہے تو وہ پھر کسی کو بھی استثنیٰ نہیں دیتی۔ اپنے محلے میں مستقل برداشت کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

حقیقت بس اتنی سی ہے کہ اردو سپیکنگ لوگوں کو کچھ مخصوص دورانیوں میں ان کے نام نہاد رہنماؤں نے تین اقوام کے خلاف استعمال کیا۔ اس سلسلے میں پہلا نمبر پختونوں کا ہی لگا تھا۔ ان کے بعد پنجابیوں اور سندھیوں کی بھی باری آئی تھی۔ وہ سب کس قدر مصنوعی تھا اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجیے کہ ان تینوں اقوام کے خلاف بیک وقت لسانی کارڈ نہیں کھیلا گیا، بلکہ وہ سب باری باری ہوا تھا۔ اور پھر ختم کردیا گیا۔ اگر اردو سپیکنگ لوگ بطور قوم متعصب ہوتے تو ان کے لسانی کارڈ محدود مدت کے لیے نہ ہوتے۔ تعصب ایک دائمی مرض ہے۔ الطاف حسین نے اس قوم کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہی کیا ہے کہ اس کی موجودہ نسل میں اب اس کے شاندار ماضی کی پرچھائیں بھی نظر نہیں آتی۔ ان میں سے جنہیں لڑکپن اور نوجوانی 90 کی دہائی میں نصیب ہوئی، ان کی اکثریت تعلیم سے ہی محروم رہ گئی۔

32 سال قبل جب ہم اسلام آباد منتقل ہورہے تھے تو سن یہی رکھا تھا کہ پنجابی بہت ہی متعصب ہوتے ہیں۔ بالخصوص اس الزام میں تو کافی صداقت بھی تھی کہ یہ چھوٹے صوبوں کا حق کھا جاتے ہیں۔ سو ایک دھڑکا سا تھا کہ یہ متعصب قوم پتا نہیں ہمیں نوکری بھی حاصل کرنے دے گی یا نہیں؟ لیکن اگلے 25 برس ہم نے وہاں جتنی بھی نوکریاں کیں سب کی سب پنجابیوں نے ہی دی تھیں۔ ان 25 برسوں میں ہم نے چار مکان بدلے۔ کسی بھی مالک مکان نے اپنا مکان کرائے پر دینے سے قبل ہم سے قومیت کا سوال نہ پوچھا۔ دوستوں سے روزمرہ قسم کی تلخیاں بھی ہوئیں تو ہماری قومیت کبھی زیر بحث نہ آئی۔ پنجابی پاکستان کی واحد قوم ہیں جن کی کوئی نسلی تنظیم ہی نہیں ہے۔ ایسی کوئی تنظیم بن سکی اور نہ ہی بن سکے گی، کیونکہ یہ ان کے قومی مزاج کے ہی خلاف ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اس قوم کی نوجوان نسل اس طرح سے تباہ نہ کی جاسکی جس طرح کراچی کی اردو سپیکنگ نسل تباہ کی گئی۔ عمران خان ان سے دن میں جلوس نکلواتے اور شام کو تھوڑا نچوا لیتے۔ کسی قوم کے خلاف نفرت کا بیج بونے کی وہاں گنجائش نہ تھی، سو خان کو نفرت والا چورن کچھ مخصوص سیاستدانوں کے خلاف ہی بانٹنا پڑا۔ تصادم کی راہ خان نے بھی آخری چارے کے طور پر اختیار کرنے کی کوشش کی۔ مگر ذرا یاد کیجیے ان کے 9 مئی والے تصادم کے لیے نوجوان دستیاب ہی کتنے ہو پائے تھے؟ اس سے زیادہ تو کراچی میں ٹریفک ایکسیڈنٹ کے موقع پر جمع ہوجاتے ہیں۔ عمران خان کے نام نہاد انقلاب کو ایک بڑا سیاسی مذاق اسی لیے تو بننا پڑا کہ پنجاب کے لوگ تصادم سے گریز کا چلن رکھتے ہیں، جبکہ انقلاب تو نام ہی تصادم کا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp