صدر مملکت آصف علی زرداری کی صدارت ایوان صدر میں اہم اجلاس ہوا ہے، جس میں خیبرپختونخوا کی صورت حال پر غوروخوض کیا گیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان، نوید قمر اور دیگر نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ، جلد ملاقات متوقع
میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے سمیت دیگر امور پر مشاورت کی گئی جس کے بعد اب اہم فیصلے ہونے کا امکان ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کو ٹیلیفون کیا اور ملاقات کی دعوت دے دی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تناؤ کم کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کررہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کسی کو بھی وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی اٹک سے آگے نہیں بڑھ سکتے، اگر ضرورت پڑی تو گورنر راج لگانے سے گریز نہیں کیا جائےگا۔
دریں اثنا ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ بھی شریک تھے۔
مزید پڑھیں: کے پی میں گورنر راج نہیں لگانا چاہتے لیکن اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائےگی، خواجہ آصف
صدر مملکت کی معاونت سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے کی۔
ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس پیر 13 اکتوبر کو طلب کیے جائیں گے۔














