پنجاب اسمبلی میں مسیحی برادری کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور انہیں جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم نجی ممبر بل جمع کروا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کرسچن میرج ایکٹ میں کون سی ترامیم لانے کا فیصلہ کیا گیا؟
قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے چیئرمین فیلبوس کرسٹوفر نے پنجاب کرسچن سکسیشن بل 2026 جمع کروایا ہے جس کا مقصد سنہ 1925 کے انڈین سکسیشن ایکٹ کی جگہ مسیحیوں کے لیے الگ اور مخصوص قانون لانا ہے۔
پرانا قانون کب بنا اور اس میں کیا تھا؟
موجودہ قانون یعنی انڈین سکسیشن ایکٹ 1925 برطانوی دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔ یہ قانون آج بھی پاکستان میں مسیحی برادری کی وراثت کے معاملات پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا اطلاق جین، پارسی اور بدھ مت کے پیروکاروں پر بھی ہوتا رہا ہے۔
اس قانون کے تحت اگر کوئی مسیحی بغیر وصیت کے فوت ہوجائے اور اگر اس کے پیچھے بیوی یا شوہر اور اولاد موجود ہو تو شوہر یا بیوی کو جائیداد کا ایک تہائی حصہ ملتا ہے جبکہ باقی 2 تہائی حصہ بیٹوں اور بیٹیوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے۔ اولاد نہ ہونے کی صورت میں شوہر یا بیوی کو نصف جائیداد ملتی ہے اور باقی قریبی رشتہ داروں میں تقسیم ہوتی ہے۔
لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاتی اور دونوں کو برابر حصہ ملتا ہے۔
مزید پڑھیے: مریم نواز کا پنجاب میں سکھ برادری کو ہیلمٹ قانون سے استثنیٰ دینے کا اعلان
تاہم یہ قانون نوآبادیاتی دور کا ہونے کی وجہ سے اب پرانا ہو چکا ہے۔ اس میں قانونی طور پر گود لیے گئے بچوں، سوتیلے بہن بھائیوں، جدید رجسٹریشن سسٹم اور وصیت کے غلط استعمال جیسے معاملات کی واضح وضاحت کم ہے۔ اسی وجہ سے مسیحی خاندانوں کو وراثت کے معاملات میں اکثر مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
نئے بل میں کیا تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں؟
مجوزہ پنجاب کرسچن سکسیشن بل 2026 گزشتہ قوانین میں کئی اہم تبدیلیوں کے ساتھ آئے گا۔ تبدیلیوں کے تحت کسی بھی مسیحی مرد یا عورت کی جائیداد اس کے بیٹوں اور بیٹیوں میں برابر تقسیم ہوگی۔ قانونی طور پر گود لیے گئے بچوں کو بھی قدرتی اولاد کے برابر وراثتی حقوق دیے جائیں گے۔ اگر کسی شخص کی دوسری شادی ہوئی ہو تو سوتیلے بہن بھائیوں کو بھی جائیداد میں برابر حصہ ملے گا۔ مسیحی مرد کی وفات پر بیوہ کو ایک تہائی حصہ اور مسیحی عورت کی وفات پر خاوند کو بھی ایک تہائی حصہ دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں مرحوم اپنی جائیداد کا صرف 25 فیصد حصہ وصیت کے ذریعے کسی کو دے سکے گا جبکہ بقیہ 75 فیصد لازمی طور پر ورثا میں قانون کے مطابق تقسیم ہوگی۔ فراڈ، دباؤ یا جبر کے ذریعے حاصل کی گئی وصیت غیر مؤثر سمجھی جائے گی۔
مرحوم کے ورثا پنجاب سکسیشن ایکٹ 2025 کے تحت نادرا میں رجسٹرڈ ہوں گے اور تحائف یا ہبہ کو بھی رجسٹرڈ کیا جائے گا تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
لیگی ایم پی اے فیلبوس کرسٹوفر کا بیان
بل کے محرک فیلبوس کرسٹوفر نے کہا کہ موجودہ قانون سنہ 1925 کا ہے اور یہ صرف مسیحیوں تک محدود نہیں اس لیے مسیحی برادری کے لیے الگ قانون کی ضرورت تھی۔
مزید پڑھیں: دھی رانی پروگرام، اب تک پنجاب حکومت کتنے جوڑوں کی شادیاں کروا چکی ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ قانون سے پنجاب میں بسنے والے تقریباً 25 لاکھ مسیحی اپنے بنیادی وراثتی حقوق سے مستفید ہوں گے۔
یہ بل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے ویژن کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے دیگر صوبوں کو بھی اقلیتوں کے لیے مثبت قانون سازی کا موقع ملے گا۔
مسیحی برادری کا مؤقف
مسیحی برادری کے حلقوں کے مطابق نوآبادیاتی دور کے قوانین میں اصلاحات کی طویل عرصے سے مانگ رہی ہے اور خصوصاً وراثت کے معاملات میں شفافیت، رجسٹریشن اور خواتین و بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے کمیونٹی کے نمائندے اس بل کو مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔
تاہم گزشتہ مہینوں میں مسیحی شادی کے قانون سے متعلق بل پر چرچ آف پاکستان اور کیتھولک چرچ نے وسیع مشاورت کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ مذہبی شناخت اور کلیسیائی روایات کا خیال رکھا جا سکے۔ اس نئے وراثتی بل کو عموماً جدید اور برابری پر مبنی قانون قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا ایسٹر پر مسیحی برادری کے لیے نیک خواہشات کا پیغام
بل ابھی پنجاب اسمبلی میں جمع کروایا گیا ہے۔ اگلے اجلاس میں پیش ہونے کے بعد اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی میں تفصیلی جائزے کے لیے بھیجا جائے گا۔ اگر بل منظور ہو گیا تو یہ پنجاب میں مسیحی برادری کے ذاتی قوانین کی جدت کاری میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔








