پولیس کریک ڈاؤن کے باوجود ’کاکروچ‘ مظاہرین کا دوبارہ احتجاج کا اعلان

جمعہ 16 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی نوجوانوں کی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے پولیس کریک ڈاؤن اور اپنے 2 رہنماؤں کی گرفتاری کے باوجود آج دوبارہ احتجاج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق مظاہرین نئی دہلی کے علاقے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں جمع ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم یہ مقام بھی احتجاج کے لیے منظور شدہ جگہوں میں شامل نہیں۔

تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے احتجاج کو ’ترنگا لہراؤ‘ کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ گرفتاری کے خطرے کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ دہلی نہیں پہنچ سکتے، وہ اپنے علاقوں میں بھارتی پرچم لہرا کر احتجاج کریں۔

یہ تحریک مئی میں اس وقت سامنے آئی تھی جب بھارت کے چیف جسٹس نے بعض بے روزگار نوجوانوں کے لیے ’کاکروچ‘ کا لفظ استعمال کیا۔ ڈپکے نے اسی لفظ کو اپنی تحریک کی شناخت بنا لیا۔ بعدازاں تحریک نے امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے خلاف احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں بی بی سی کے مطابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔

اب تحریک کا مرکزی مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کے ذریعے 13 کروڑ سے زیادہ نام حذف کیے گئے، جس سے اہل ووٹرز کے حقِ رائے دہی کو خطرہ لاحق ہے۔ الیکشن کمیشن اور بھارتی حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے پولیس نے مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں، سڑکیں بند کیں اور متعدد افراد کو حراست میں لیا، جن میں صحافی اور طلبہ بھی شامل تھے۔ منگل کو تحریک کے 2 رہنماؤں سورَو داس اور اشوتوش رانکا کو جنتر منتر میں پابندی کے باوجود احتجاج کرنے پر گرفتار کیا گیا اور 5 روز کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کاکروچ پارٹی کے احتجاج نے شدت اختیار کرلی، سینکڑوں مظاہرین گرفتار، اسٹیڈیمز جیلوں میں تبدیل

دہلی پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے اور غیر مجاز اجتماعات روکنے کے لیے اقدامات کو ضروری قرار دیا ہے۔ دوسری جانب کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتیں بھی ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور انتخابی عمل میں مبینہ جانبداری کے الزامات اٹھا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp