پاکستانی خواتین چھاتی کے سرطان کے ریڈار پر، ہر 8 میں سے ایک خاتون میں بریسٹ کینسر کی تشخیص، مردوں کی شمولیت چھاتی کے سرطان سے لڑنے والی خواتین کی جنگ آسان بنانے میں ناگزیر ہے، معاشرتی جھجھک کی وجہ سے آج بھی مریض خواتین اس موضوع پر بات کرنے سے گھبراتی ہیں جو ان کی بیماری کے بگاڑ کی بڑی وجہ ہے۔
اسلام آباد: پمز اسپتال کے فیڈرل بریسٹ کینسر اسکریننگ سینٹر میں پنک اکتوبر کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے خصوصی شرکت کی، تقریب میں ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چھاتی کے کینسر کے خلاف جنگ لڑنے والی خواتین کی ہمت اور حوصلے کو داد دی اور بروقت اسکریننگ اور تشخیص پر زور دیا۔ وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے
Men for her Health کے حامی محمد عدنان نے کہا کہ اس بیماری سے لڑنے کے لیے فیملی خاص طور پر خاندان کے مرد حضرات جن میں شوہر، بیٹا، باپ یا بھائی شامل ہیں، ان کی سپورٹ اور شمولیت بے حد ضروری ہے کیونکہ فیملی کی طرف سے دیا گیا اعتماد اہم ہے تاکہ خواتین کھل کر بات کر سکیں اور علاج معالجے کے مراحل کو طے کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی خواتین کو سائیکو سوشل سپورٹ کے لیے مرد حضرات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے خواتین میں اس بیماری سے آگاہی اور اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنے اور بروقت اسکریننگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے پمز میں بریسٹ کینسر کے علاج کے لیے دی گئی مفت علاج معالجے کی سہولیات بھی سراہیں۔
ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عائشہ ثانی کا کہنا تھا کہ پراسیسڈ فوڈ، موٹاپا، اور سست لائف اسٹائل خواتین کو اس مرض سے دوچار کرنے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور پاکستان میں ہر سال چھاتی کے سرطان کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کے لیے ایسے سینٹرز جہاں بائیوپسی، میموگرافی، ڈیکسا اسکین، ایم آر آئی، آئنائزنگ ریڈی ایشن، ویکیوم اسسٹڈ بائیوپسی کی سہولیات دینا ضروری ہے لیکن خواتین کو اپنے لائف اسٹائل میں بھی تبدیلی لانا ضروری ہے۔













