وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی نافذ کی گئی، پاکستان تحریک انصاف کی ماضی کی تاریخ بہت بھیانک ہے اور اس مرتبہ بھی انہوں نے خون خرابے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ مذاکرات کے دوران طے پایا تھا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ کی کال واپس لے گی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف گوجرانوالہ میں راشد بشیر ورک کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے محمود بشیر ورک کے انتقال پر اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور راشد بشیر ورک سمیت دیگر اہلخانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنا افسوسناک ہے، طارق فضل چوہدری
اس موقع پر وزیراعظم نے کہاکہ مرحوم محمود بشیر ورک کی سیاست کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسان نے اس دنیا سے جانا ہے، کسی نے پہلے اور کسی نے بعد میں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نواز شریف کی نامزدگی کے معاملے پر کبھی ایک لمحے کے لیے بھی کوئی دوسرا نام زیر غور نہیں آیا۔ نواز شریف کی سوچ، تجربہ اور عوام کے ساتھ وابستگی ان کی سیاسی طاقت ہے۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب میں حکومتی امور کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور محنت جاری ہے، جبکہ ملک میں معاشی استحکام آچکا ہے۔
’خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری کے تحت نافذ کی گئی‘
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری کے تحت کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی ماضی کی تاریخ انتہائی بھیانک رہی ہے اور اس جماعت نے ہر لحاظ سے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ صوبے میں گورنر راج کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے اس مرتبہ بھی خون خرابے کا منصوبہ بنا رکھا تھا، تاہم حکومت نے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
وزیراعظم نے کہاکہ مذاکراتی کمیٹی نے دن رات بیٹھ کر معاملات کے حل کے لیے کوششیں کیں اور بات چیت کے دوران یہ طے پایا تھا کہ تحریک انصاف لانگ مارچ کی کال واپس لے گی۔
’سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ ایک سے زیادہ ملاقاتیں ہوئیں، جن میں صوبے کی ترقی اور دیگر معاملات پر بات چیت کی گئی۔
انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰ کو واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ صوبے کی ترقی کے لیے جتنے وسائل درکار ہوں گے، وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔
’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان سے دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ملک کو اس چیلنج کا سامنا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
شہباز شریف نے کہاکہ سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام بلند ہو رہا ہے، جبکہ ملکی معیشت بھی آہستہ آہستہ ترقی کی جانب گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی ایندھن کی سبسڈی سے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: گورنر راج اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں، محسن نقوی
وزیراعظم نے کہا کہ خلیجی جنگ کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوئے ہیں اور اس جنگ کے باعث مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتی تھی، اس لیے ملکی مفاد میں ضروری فیصلے کرنا پڑے۔














