20 لاکھ بیرل سے زائد تیل لے جانے والے جہاز میں دھماکا، ایران کا بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ

اتوار 18 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد خام تیل لے جانے والے ایک بڑے جہاز میں دھماکا ہوا اور آگ لگ گئی۔ جہاز میں 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل موجود تھا، تاہم حکام نے جہاز کی شناخت اور واقعے کے مقام کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کو بتایا کہ جہاز مبینہ طور پر ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ جہاز نے امریکی حمایت سے گزرنے کے لیے اپنے تمام نگرانی کے نظام بند کردیے تھے۔ پاسداران انقلاب نے رات کے وقت آگ میں گھرے ایک جہاز کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکا نے ایران کی تیل کی آمدن اور فوجی اخراجات پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی سمندری تجارت محدود کر رکھی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعے کو کہا تھا کہ امریکی افواج نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اجازت یافتہ امداد کے سوا ایران کی سمندری درآمدات اور برآمدات روک دی ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں کم از کم 25 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی خام تیل کی برآمدات روکی جاچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی ایرانی حکمت عملی کیوں؟

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی مجموعی تیل کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کے لیے اجازت لینا ضروری قرار دیا تھا۔

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے اور گزشتہ سات روز میں تقریباً 400 تجارتی جہاز اس راستے سے گزر چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp