حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھل سکتا ہے؟

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے 2 ادوار کے باوجود سیاسی ڈیڈلاک ختم نہ ہو سکا، تاہم، حکومتی رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہونے کے بیانات اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے بامقصد بات چیت کی حمایت کے بعد ایک بار پھر مذاکرات کی بحالی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور اپوزیشن ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکیں گی یا دہشتگردی کے خلاف حکمتِ عملی، خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون اور ملاقات کے طریقۂ کار پر اختلافات ایک بار پھر آڑے آئیں گے؟

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات سے قبل اپنے کیے پر دنیا کے سامنے معافی مانگے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے رکھے ہیں اور اگر اپوزیشن بامقصد مذاکرات کے لیے آگے بڑھتی ہے تو حکومت بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ان کے مطابق، حکومت اپوزیشن کے ساتھ کہیں بھی بیٹھ کر مذاکرات کرنے کو تیار ہے اور اس حوالے سے کوئی مخصوص مقام مقرر نہیں کیا گیا، وزیراعظم، وفاقی کابینہ اور اسپیکر سمیت حکومتی نمائندے متعدد بار اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اب مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

مزید پڑھیں: حکومت پی ٹی آئی مذاکرات خوش آئند، ایک دوسرے کا وجود تسلیم کرنا ہوگا، انوارالحق کاکڑ

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق، اس وقت اپوزیشن خود تقسیم کا شکار دکھائی دیتی ہے، ایک جانب پی ٹی آئی محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا اختیار دینے کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب اپوزیشن کے اندر ہی انہیں اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو پہلے اپنے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی، تاہم اگر مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔

مزید پڑھیں: ملک میں آئین کی بالادستی کے لیے وسیع البنیاد اتحاد بنا کر عوام میں جائیں گے، اسد قیصر

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات محض فوٹو سیشن یا رسمی پیشکشوں تک محدود نہیں ہونے چاہییں، بلکہ ان کے ساتھ عملی اقدامات بھی ہونے چاہییں۔ ’اگر نیک نیتی اور بامقصد انداز میں بات چیت کی جائے تو مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔‘

بیرسٹر گوہر کے مطابق، مذاکرات کا آپشن ہر صورت برقرار رہنا چاہیے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت ضروری ہے۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی واضح کیا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ماضی میں پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے مطلوبہ گنجائش فراہم نہیں کی۔

مزید پڑھیں: کامیابی کے قریب پہنچ کر بھی ناکام، پی ٹی آئی اور حکومتی مذاکرات کے دوران کیا ہوتا رہا؟

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن یہ شرط عائد کرے کہ پہلے ایمرجنسی یا کسی دوسرے حکومتی انتظام کو واپس لیا جائے اور اس کے بعد مذاکرات ہوں تو ایسا ممکن نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق، خیبر پختونخوا میں موجودہ انتظام کو وقت دیا جانا چاہیے تاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری کمٹمنٹ کے ساتھ لڑی اور جیتی جا سکے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن دہشتگردی کے خلاف حکومتی کوششوں میں تعاون کرتی ہے تو اس معاملے پر بات ہو سکتی ہے، انہوں نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے حوالے سے مشاورت کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ وزیراعظم اس سلسلے میں پہلے بھی خطوط لکھ چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات میں اصل ’اسٹیک ہولڈرز‘ سے مشاورت کے لیے حکومت کو وقت دے رہی ہے، اسد قیصر

ان کے مطابق، اگر محمود خان اچکزئی وزیراعظم ہاؤس اور اسپیکر چیمبر میں ملاقات کے لیے تیار نہیں تو کسی متبادل مقام پر بات چیت کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ ’تاہم، اس معاملے کو ضد کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔‘

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون کا معاملہ رہا ہے، مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے ابتدا میں یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ بات چیت میں پیشرفت ہوئی ہے اور کسی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے معاملات آگے نہ بڑھ سکے

تاہم بعد ازاں اختلافات سامنے آنے پر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ اس ضمن میں سہیل آفریدی کے مؤقف اور دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت سے تعاون کے معاملے پر اختلافات کو بھی مذاکراتی عمل میں تعطل کی ایک وجہ قرار دیا گیا۔

ماضی میں بھی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا ایک دور ہو چکا تھا، تاہم وہ بھی کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکا، دوسرے دور کے بعد بھی دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے اور سیاسی کشیدگی برقرار رہی۔

مزید پڑھیں: اب کسی کو غیرجمہوری رویوں سے تعمیر و ترقی کے عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

یوں مذاکرات کے 2 ادوار کے باوجود نہ تو سیاسی اختلافات ختم ہو سکے اور نہ ہی اعتماد سازی کے لیے کوئی ایسا مستقل طریقۂ کار سامنے آ سکا جس سے بات چیت کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

موجودہ صورتِ حال میں حکومتی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے دروازے بند نہیں کیے گئے، جبکہ پی ٹی آئی قیادت بھی اصولی طور پر بامقصد مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے۔ تاہم، مذاکرات کی عملی بحالی کے لیے ضروری ہوگا کہ دونوں فریق ملاقات کے مقام، مذاکراتی نمائندوں، ایجنڈے اور دہشتگردی کے خلاف تعاون جیسے معاملات پر کوئی قابلِ قبول راستہ نکالیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی پرویز خٹک سے ملاقات، صوبے کے لیے مشترکہ مشاورت پر اتفاق

ایف نائن پارک میں ایک بھی درخت نہیں کٹے گا، کنکریٹ اسٹرکچر نہیں بنائیں گے، محسن نقوی کا اعلان

پیٹرولیم لیوی پر حکومت و جماعت اسلامی مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات کا امکان

ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دے دی، این ایف سی فنڈز مل ‘جائیں گے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی

کیا انسان ریچھ، گھوڑے یا چیتے سے تیز دوڑ سکتا ہے؟ جانوروں کی رفتار سے متعلق دلچسپ تحقیق

ویڈیو

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟