وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے ایف نائن پارک کی اپ گریڈنگ کے دوران ایک بھی درخت نہ کاٹنے اور کوئی نیا کنکریٹ اسٹرکچر نہ بنانے کی سو فیصد ضمانت دی ہے۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے گرین اسپیس ایف نائن پارک (فاطمہ جناح پارک) کی ترقی اور خوبصورتی کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر واضح کیا کہ پارک میں ایک بھی درخت نہیں کاٹا جائے گا اور کسی قسم کی کنکریٹ تعمیرات نہیں کی جائیں گی۔
F-9 Park holds a special place in the hearts of everyone living in Islamabad.
Let me make it absolutely clear that Not a single tree will be cut 100% guaranteed. No new concrete structures.
Instead, we are planning better lighting, a beautiful lake, coffee shops, improved walkways, and the plantation of thousands of additional trees.
Our only goal is to make F-9 Park greener, safer, more beautiful, and more enjoyable for families and visitors.
https://t.co/S6WZxwSmxx
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) October 25, 2026
نہوں نے کہا کہ ہمارا واحد مقصد ایف نائن پارک کو خاندانوں اور وزیٹرز کے لیے مزید سرسبز، محفوظ، خوبصورت اور پرکشش بنانا ہے کیونکہ یہ پارک دارالحکومت کے رہائشیوں کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کی ایف نائن پارک میں جلسے کی درخواست مسترد، راولپنڈی میں بھی دفعہ 144 نافذ
یاد رہے کہ محسن نقوی نے 21 اکتوبر کو اسلام آباد میں 4 نئے پارکس کی تعمیر اور لندن کے ہائی پارک کی طرز پر ایف نائن پارک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اعلان کیا تھا۔
نئے منصوبے کے تحت پارک میں بہتر لائٹنگ، ایک جھیل، کافی شاپس، بہتر واک ویز (پیادہ راستے) بنائے جائیں گے اور ہزاروں اضافی مقامی درخت لگائے جائیں گے۔
اس سے قبل، ماحولیاتی کارکن اور اسکول ٹیچر عثمان نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پارک کے حوالے سے گہرے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
عثمان نے بتایا کہ تقریباً 400 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ایف نائن پارک شہر کے ماحولیات اور آنے والی نسلوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ سالانہ تقریباً 2.45 ارب لیٹر بارش کا پانی پارک کے علاقے میں برستا ہے جو زمین میں جذب ہو کر زیر زمین پانی کے ذخائر کو تقویت دیتا ہے۔
انہوں نے حکام سے پرزور اپیل کی کہ محض ترقی کے نام پر پارک کو اس کی اصل شکل سے محروم نہ کیا جائے اور بڑی عمارتیں یا ہائی رائز پارک بنانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں تاکہ فضا کی آلودگی کو کم اور سبزے کو بڑھایا جا سکے۔
پیپر ملبری درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی تنازع
یہ پورا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند ماہ سے اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر شدید بحث جاری ہے۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شہر میں پولن الرجی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک بڑی مہم کے دوران 29,000 سے زیادہ پیپر ملبری درختوں کو کاٹ دیا ہے۔
یہ آپریشن ایف نائن پارک، شکرپڑیاں اور شہر کے مختلف رہائشی سیکٹرز میں کیا گیا۔ اتھارٹی کا مؤقف تھا کہ یہ درخت سائنسی اور قانونی بنیادوں پر ہٹائے گئے ہیں اور ان کی جگہ ماحول کے لیے موزوں دیسی اقسام کے درخت لگائے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:ایف نائن پارک میں خاتون سے زیادتی، پولیس نے ملزم کا خاکہ جاری کر دیا
تاہم اس پیمانے پر درختوں کی کٹائی پر ماحولیاتی ماہرین اور شہریوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی، جنہوں نے بڑے اور گھنے درختوں کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کے نتیجے میں اسلام آباد کے گرین کور پر پڑنے والے منفی اثرات پر سوالات اٹھائے۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی کا مؤقف
فروری میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں وزارت موسمیاتی تبدیلی نے واضح کیا تھا کہ درختوں کی کٹائی کے لیے پیشگی منظوری لازمی ہے اور اس بات پر تشویش ظاہر کی تھی کہ یہ کارروائی متعلقہ ماحولیاتی اداروں کی مطلوبہ مشاورت کے بغیر انجام دی گئی۔
دوسری جانب، ایف نائن پارک خود اس تنازع کے مرکز میں رہا ہے۔ سی ڈی اے نے اس سے قبل سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ سال 2024 کے دوران پارک کے مخصوص حصوں سے تقریباً 7,000 پیپر ملبری درخت ہٹائے گئے ہیں، جس کا مقصد شہریوں کو پولن الرجی سے نجات دلانا تھا اور اس کے بعد وہاں نئی شجرکاری کا عمل بھی شروع کیا جانا تھا۔











