چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا عالمی دن: خواتین بروقت طبی مشورہ لیں، وزیراعظم کی اپیل

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے عالمی دن پر خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی صحت سے متعلق کسی بھی تشویش کی صورت میں بلا تاخیر طبی رہنمائی حاصل کریں، جبکہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے بھی مرض سے متعلق آگاہی، بروقت طبی توجہ اور متاثرہ خواتین کی معاونت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھیں:چھاتی کے سرطان سے بچانے والی ننھی ڈیوائس ہزاروں زندگیاں بچا سکتی ہے

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ چھاتی کے سرطان سے آگاہی، بروقت تشخیص، معیاری علاج اور نگہداشت اہم مسائل ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ کوئی بھی پاکستانی بیٹی علاقے یا مالی استطاعت کی وجہ سے بروقت اور معیاری علاج سے محروم نہ رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت متعلقہ وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے تعاون سے بنیادی صحت کی سہولیات اور سرطان کے خصوصی علاج تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات تک محدود رسائی کے باعث وہاں مقیم خواتین کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز خواتین میں چھاتی کے سرطان کی علامات کی شناخت، خود معائنے، بروقت طبی مشورے اور طبی مراکز سے رجوع کرنے کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بنیادی مراکزِ صحت کے طبی عملے کی ابتدائی تشخیص سے متعلق استعداد بڑھانے کے لیے بھی خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں قائم وفاقی مرکز برائے اسکریننگ تشخیص، مفت ادویات اور مشتبہ مریضوں کو مزید طبی علاج کے لیے متعلقہ مراکز تک پہنچانے کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ حکومت صحتِ عامہ کے پروگراموں اور نجی تنظیموں کے تعاون سے بھی اسکریننگ تک رسائی بڑھانے کے اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے خاندانوں، ذرائع ابلاغ، مذہبی رہنماؤں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور طبی ماہرین سے اپیل کی کہ چھاتی کے سرطان سے متعلق خاموشی اور جھجک ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور خواتین کو بروقت طبی معائنے اور علاج کی ترغیب دیں۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ چھاتی کا سرطان ہزاروں پاکستانی خاندانوں کو متاثر کرتا ہے اور اس کے اثرات مریضہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان کی سماجی اور جذباتی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے خواتین کو اپنی صحت میں ہونے والی تبدیلیوں پر توجہ دینے اور مناسب طبی مشورہ حاصل کرنے کی ترغیب دی۔

صدر نے کہا کہ خاندانوں اور معاشرے کو ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں خواتین صحت سے متعلق خدشات بلا جھجک بیان کر سکیں اور خوف یا ہچکچاہٹ کے بغیر طبی سہولیات حاصل کریں۔ انہوں نے چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین اور علاج مکمل کرانے والی مریضات کو جذباتی، سماجی اور خاندانی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مزید پڑھیں:چھاتی کے کینسر کے خلاف جنگ میں مردوں کا ساتھ کیوں ضروری؟

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ خواتین کو اپنی صحت کو ترجیح دینی چاہیے اور کسی بھی تشویش کی صورت میں مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین کو اس مشکل مرحلے میں اپنے خاندانوں اور معاشرے کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

خاتونِ اول نے ڈاکٹروں، نرسوں، طبی کارکنوں، رضاکاروں، مریضوں کی معاون تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چھاتی کے سرطان کے بارے میں کھل کر بات کرنے اور درست معلومات عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی خاتون علاج کے حصول یا اس مرض کا سامنا کرتے ہوئے خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp