امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں اور محصولات میں نرمی کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس اقدام سے روسی ایندھن کی برآمدات میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
پیر کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق رات 11 بج کر 40 منٹ پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.43 ڈالر، یعنی 1.30 فیصد کمی کے بعد 108.43 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے کا امکان ہے، تیل کی قیمتیں بھی کم ہوں گی، ڈونلڈ ٹرمپ
اس سے قبل جمعے کو برینٹ خام تیل کی قیمت 19 مئی کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 53 سینٹ، یعنی 0.52 فیصد کمی کے بعد 100.88 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
President Trump signed an executive order waiving new energy sanctions and tariffs on Russia, exercising statutory waiver authority despite pushback from congressional leaders. https://t.co/kWV1e9bW0S
— The Washington Times (@WashTimes) October 19, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت گراہم ایکٹ کے تحت عائد اہم پابندیوں اور محصولات میں چھوٹ دی گئی ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ قانون سازوں کے مطالبے پر اس قانون پر دستخط کیے تھے، جن کا مقصد یوکرین کے خلاف جنگ کے معاملے پر ماسکو پر دباؤ بڑھانا تھا۔
تاہم، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اس چھوٹ کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 60 روز تک کا وقت لیں گے۔
مزید پڑھیں: بڑا یو ٹرن، ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج اتارنے اور جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے صاف انکار
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ امریکا کو ڈیزل برآمد کرنے کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکا کے یہ اقدامات یوکرین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور بحری جہازوں کو درپیش سکیورٹی خطرات کے باعث عالمی توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، انہی خدشات کے نتیجے میں جمعے کو برینٹ خام تیل کی قیمت مختصر وقت کے لیے 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو مئی کے بعد پہلی بار اس سطح پر پہنچی۔
مزید پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی عوام کو ریلیف دیں گے، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک
تجزیاتی ادارے کیپلر کے مطابق، تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافے کے باعث خلیجی خطے سے خام تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی۔
ادارے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے 7 روزہ اوسط کے حساب سے تیل کی ترسیل کم ہو کر تقریباً 85 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل یہ مقدار 2 کروڑ بیرل یومیہ سے زیادہ تھی۔
ادھر بین الاقوامی توانائی ایجنسی یعنی آئی ای اے نے اپنے رکن ممالک کو ڈیزل کے مزید ذخائر جاری کرنے کی ضرورت کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔











