وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اگر ملک میں نسلی بنیادوں پر صوبے بنائے گئے تو اس سے تباہی آئے گی، اگر صوبے بنانے ہیں تو محض انتظامی بنیادوں پر تشکیل دئیے جائیں۔
صنوبر انسٹیٹیوٹ اسلام آباد کے زیرِ اہتمام ’نئے صوبے اور طرزِ حکمرانی‘ کے موضوع پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور صنوبر انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین ایمبیسیڈر اعزاز احمد چوہدری سمیت مختلف سیاسی و سفارتی شخصیات نے خطاب کیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ اگر ملک میں نسلی بنیادوں پر صوبے بنائے گئے تو اس سے تباہی آئے گی، البتہ اگر صوبے بنانے ہیں تو محض انتظامی بنیادوں پر تشکیل دیے جائیں۔
انہوں نے انتظامی مشکلات اور وفاق کے رویے پر گلے شکوے کرتے ہوئے کہا ’میں 2 سال تک چیختا رہا کہ بلوچستان کو اچھے پولیس آفیسرز دیے جائیں، لیکن ہمیں ایک 58 سالہ خاتون اور ایک نابینا آفیسر بھیج دیا گیا‘۔
پنجاب کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے پنجاب کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن کم لوگ جانتے ہیں کہ پنجاب اپنے این ایف سی (NFC) شیئر سے بلوچستان کو حصہ دیتا ہے اور یہاں تعلیم کے فروغ کے لیے سالانہ ایک ارب روپے بھی فراہم کرتا ہے۔
سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے جغرافیہ اور طویل فاصلوں کو طرزِ حکمرانی کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے صوبے کا انتظام چلانا انتہائی مشکل ہے۔
’بعض علاقوں تک پہنچنے میں 6 سے 10 گھنٹے لگتے ہیں اور کسی واقعے کی صورت میں ضلعی انتظامیہ کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں گھنٹوں درکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے انتظامی یونٹس یا دارالحکومت کی منتقلی کے لیے صرف اعلیٰ حکام کو منتقل کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ پورے حکومتی ڈھانچے اور بھاری فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک کی موجودہ معاشی صورتِ حال میں نیا ڈھانچہ بنانے سے پہلے وسائل کا درست جائزہ لینا ہو گا۔‘
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آرمی ہم سے صرف بیانیے کی سپورٹ مانگتی ہے۔ تشدد کو جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔ لڑنے والا بلوچ تعمیر و ترقی کے لیے نہیں الگ ریاست کے لیے لڑتا ہے۔ جو ترقی کی بات کرتا ہے، اسے پرو اسٹیبلشمنٹ کہہ دیا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محض چھوٹے صوبے بنا دینا مسائل کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں میں اس وقت ڈکٹیٹرشپ کی سی کیفیت ہے، اس لیے مسائل کے حل کے لیے ڈویژن کی سطح پر نظام قائم کرنا پڑے گا۔
اس سے قبل، صنوبر انسٹیٹیوٹ کے چیئرمین ایمبیسیڈر اعزاز احمد چوہدری نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے ملک میں نئے صوبوں کی بحث پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کی جانب سے 12 سے 15 صوبے، 160 بااختیار ضلعی حکومتوں یا 36 ڈویژنوں کو انتظامی اکائیاں بنانے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب سندھ اسمبلی اور پیپلز پارٹی سندھ کی وحدت پر قائم ہیں، ایم کیو ایم پاکستان نئے صوبوں کی حامی، پی ٹی آئی مشاورت چاہتی ہے جبکہ جے یو آئی (ف) اس کی مخالف ہے۔
اعزاز احمد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بہتر طرزِ حکمرانی کی ضمانت ہیں؟ آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دیے بغیر اور عوام تک بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بغیر محض جغرافیائی نقشہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔











