بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عرفان اللہ نے دانش اسکول ڈیرہ غازی خان سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) بن کر نمایاں کامیابی حاصل کرلی۔ وہ دانش اسکول کے پہلے سی ایس پی بھی بن گئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر عرفان اللہ کی کامیابی سے متعلق ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ عرفان اللہ محض پانچ برس کے تھے جب ان کے والد انتقال کر گئے۔ زندگی کے اس مشکل مرحلے پر دانش اسکول ڈیرہ غازی خان نے انہیں تعلیم و تربیت حاصل کرنے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کیا۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عرفان اللہ صرف پانچ برس کے تھے جب والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کے دانش سکول ڈیرہ غازی خان نے انہیں سنبھالا۔ انہیں پنجاب میں ماں جیسی اپنائیت ملی اور یہ احساس بھی کہ ہماری پہلی پہچان پاکستانی ہونا ہے۔ آج وہ دانش سکول کے پہلے سی ایس پی… pic.twitter.com/s0jspn5nxP
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) October 19, 2026
عطا اللہ تارڑ کے مطابق عرفان اللہ کو پنجاب میں ماں جیسی محبت، اپنائیت اور حوصلہ افزائی ملی۔ اس تجربے نے ان کے اندر اس احساس کو بھی تقویت دی کہ صوبائی اور علاقائی شناخت سے بڑھ کر ہماری پہلی پہچان پاکستانی ہونا ہے۔
وفاقی وزیر نے عرفان اللہ کی کامیابی کو وزیراعظم شہباز شریف کے تعلیمی وژن کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دانش اسکول جیسے ادارے محروم اور مستحق بچوں کو معیاری تعلیم اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔
عطا اللہ تارڑ نے عرفان اللہ کی کامیابی کو قومی یکجہتی اور پاکستانی شناخت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی وزیراعظم شہباز شریف کا وژن اور یہی ہمارا پاکستان ہے۔











