خیبرپختونخوا کے اضاخیل گندم ڈپو میں سیلابی پانی سے 2 لاکھ 86 ہزار سے زیادہ گندم کی بوریاں متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ نقصان اور سرکاری ذخیرے کے تحفظ سے متعلق سوالات کے درمیان خیبرپختونخوا حکومت نے یومیہ گندم ریلیز کوٹہ 3 ہزار سے بڑھا کر 4 ہزار میٹرک ٹن کردیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے مبینہ طور پر خراب گندم کی فراہمی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ساڑھے تین ارب روپے کے نقصان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دستیاب سرکاری مراسلے کے مطابق اضاخیل میں نیشنل ریزرو سینٹر کے 11 گوداموں میں سے 6 سیلابی پانی سے متاثر ہوئے، جبکہ 5 گودام محفوظ رہے۔ متاثرہ گوداموں میں تقریباً 2 لاکھ 86 ہزار 218 عدد 50 کلوگرام کی بوریاں موجود تھیں، جن کی اوپری تین تہوں تک سیلابی پانی پہنچنے سے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پشاور: اضاخیل گندم ڈپو میں 2 لاکھ 86 ہزار بوریاں متاثر، یومیہ کوٹہ 4 ہزار میٹرک ٹن کر دیا گیا https://t.co/WKj2tfWaTY
— WE News (@WENewsPk) October 19, 2026
6 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ سیلابی پانی کے دباؤ سے گوداموں کی جنوبی اور مشرقی جانب کی دیوار متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں پانی اندر داخل ہوگیا۔
مشرقی جانب نکاسی آب کی نالی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث گوداموں سے پانی نکالنے میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ مرکز کے چار بلاکس کے 11 گوداموں میں مجموعی طور پر تقریباً 28 ہزار 562.590 میٹرک ٹن گندم ذخیرہ تھی۔
مراسلے کے مطابق پانی نکالنے کے لیے ڈی واٹرنگ پمپس اور فلور وائپرز سمیت ہنگامی اقدامات کیے گئے، جبکہ متعلقہ حکام سے متاثرہ گندم کا جائزہ لینے اور مزید بارشوں سے ممکنہ نقصان روکنے کے لیے فوری طور پر اسٹاک جاری کرنے کی درخواست کی گئی۔
یومیہ گندم کوٹے میں ایک ہزار میٹرک ٹن اضافہ
گندم کے ذخیرے کو بروقت استعمال میں لانے اور مزید نقصان سے بچانے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف فوڈ خیبرپختونخوا نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے اور گندم سے متعلق کابینہ اور سائٹ کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں صوبے کا یومیہ گندم ریلیز کوٹہ 3 ہزار سے بڑھا کر 4 ہزار میٹرک ٹن کر دیا ہے۔
محکمہ خوراک کے نوٹیفکیشن کے مطابق اضافی ایک ہزار میٹرک ٹن گندم کا اجرا 9 اکتوبر 2026 سے کیا گیا ہے، جو نیشنل ریزرو سینٹر اضاخیل سے فعال فلور ملز کو فراہم کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں صوبے کی 4 کروڑ 38 لاکھ 43 ہزار 200 نفوس پر مشتمل آبادی کے تناسب سے اضافی گندم تمام اضلاع میں تقسیم کرنے کا طریقہ کار بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام ضلعی فوڈ کنٹرولرز اور راشننگ کنٹرولرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اضافی کوٹے کی تقسیم کے مطابق پشاور کو روزانہ 116 میٹرک ٹن، چارسدہ کو 45، نوشہرہ کو 43، خیبر کو 28، مہمند کو 14، مردان کو 67 اور صوابی کو 46 میٹرک ٹن اضافی گندم فراہم کی جائےگی۔
ملاکنڈ ڈویژن میں سوات لوئر کو 39، سوات اپر کو 26، دیر لوئر کو 40، دیر اپر کو 27، بونیر کو 25، درگئی کو 20، شانگلہ کو 22، باجوڑ کو 32، چترال لوئر کو 8 اور چترال اپر کو 5 میٹرک ٹن روزانہ اضافی گندم دینے کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔
ہزارہ ڈویژن میں مانسہرہ کو 44، ایبٹ آباد کو 35، ہری پور کو 29، بٹ گرام کو 14، کوہستان اپر کو 10، کوہستان لوئر کو 8، کولئی پالس کو 7 اور تورغر کو 5 میٹرک ٹن اضافی گندم فراہم کی جائےگی۔
کوہاٹ ڈویژن میں کوہاٹ کو 30، کرک کو 20، کرم کو 19، ہنگو کو 13 اور اورکزئی کو 9 میٹرک ٹن اضافی گندم ملے گی، جبکہ بنوں ڈویژن میں بنوں کے لیے 33، سرائے نورنگ کے لیے 25 اور شمالی وزیرستان کے لیے 17 میٹرک ٹن یومیہ کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں ڈیرہ اسماعیل خان کو 45، ٹانک کو 12، جنوبی وزیرستان لوئر کو 13 اور جنوبی وزیرستان اپر کو 9 میٹرک ٹن اضافی گندم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ خوراک نے ہدایت کی ہے کہ گندم اٹھانے سے پہلے فعال فلور ملز کی تصدیق شدہ فہرست ریلیز کمیٹی کو فراہم کی جائے، جبکہ گندم کے اجرا اور ترسیل کا ریکارڈ آئی سی ٹی ایپ پر فوری اپ ڈیٹ کیا جائے۔ متعلقہ حکام کو یہ بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ اضافی گندم سے تیار ہونے والا سرکاری آٹا منظور شدہ ڈیلرز کے ذریعے مقررہ نرخوں پر عوام کو دستیاب ہو۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کا متاثرہ گندم اٹھانے سے انکار
دوسری جانب پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا نے اضاخیل گوداموں سے سیلابی پانی سے متاثرہ گندم اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ خوراک مبینہ طور پر خراب گندم کو اچھی گندم میں ملا کر فلور ملز کو فراہم کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جبکہ انکار کرنے والی ملز کا سرکاری کوٹہ بند کر دیا جاتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر محمد نعیم بٹ نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اضاخیل گوداموں میں گندم خراب ہونے کے معاملے پر بروقت توجہ نہ دینے سے قومی خزانے کو تقریباً ساڑھے تین ارب روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہاکہ فلور ملز مالکان ایسی گندم وصول کرنے پر تیار نہیں جو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ ہو، کیونکہ اس سے تیار ہونے والا آٹا عوام کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔











