مصنوعی ذہانت کے ذریعے فراڈ کے نت نئے طریقے: خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت نے جہاں روزمرہ زندگی کے کئی کام آسان بنادیے ہیں وہیں جرائم پیشہ عناصر نے بھی اس ٹیکنالوجی کو لوگوں کو دھوکا دینے اور ان کی رقم ہتھیانے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محبت کی آڑ میں آن لائن فراڈ: نوسربازوں سے کیسے بچا جائے؟

اب جعلی ویب سائٹس، نقلی آوازوں، مصنوعی ویڈیوز اور انتہائی مہارت سے تیار کیے گئے پیغامات کے ذریعے لوگوں کو دھوکا دینا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے جعلساز نہ صرف اصلی کاروباری اداروں سے ملتی جلتی ویب سائٹس تیار کرسکتے ہیں بلکہ کسی شخص کی آواز اور شکل کی نقل کرکے اس کے اہلخانہ دوستوں یا جاننے والوں کو بھی دھوکا دے سکتے ہیں۔

صارفین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب آن لائن فراڈ کی شناخت صرف املا کی غلطیوں، غیرمعیاری زبان یا مشکوک دکھائی دینے والے پیغامات سے نہیں کی جاسکتی، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بظاہر بالکل درست اور ذاتی نوعیت کے پیغامات بھی تیار کیے جاسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جعلساز مصنوعی ذہانت کی مدد سے مختلف طریقوں سے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن میں کئی نمایاں طریقے ہیں۔

جعلی ویب سائٹس اور آن لائن دکانیں

جعلساز مصنوعی ذہانت کی مدد سے کم وقت اور معمولی لاگت میں ایسی ویب سائٹس تیار کرسکتے ہیں جو دیکھنے میں کسی مستند کاروباری ادارے کی ویب سائٹ جیسی محسوس ہوتی ہیں۔ ان ویب سائٹس پر جعلی کاروبار، مصنوعات اور صارفین کے جائزے بھی دکھائے جاسکتے ہیں۔

بعض جعلی آن لائن دکانیں خود کو مقامی یا خاندانی کاروبار ظاہر کرتی ہیں اور معیاری مصنوعات فروخت کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ان کی تشہیری تصاویر میں مقامی بازاروں اور معروف مقامات کے مناظر بھی شامل کیے جاسکتے ہیں تاکہ صارفین کو ان کی اصلیت پر یقین آجائے۔

تاہم آرڈر دینے اور رقم ادا کرنے کے بعد ممکن ہے کہ خریدار کو مطلوبہ چیز کبھی موصول ہی نہ ہو یا اس کے بجائے انتہائی کم معیار کی کوئی سستی مصنوعات بھیج دی جائے۔

جعلی آواز اور ویڈیو کے ذریعے دھوکا

مصنوعی ذہانت کی مدد سے کسی شخص کی آواز کی نقل تیار کرنا اور اس کی شکل و صورت سے ملتی جلتی ویڈیو بنانا بھی ممکن ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیے: واٹس ایپ ہیکنگ سے وائس کلوننگ تک، آن لائن فراڈ کے نت نئے طریقے

جعلساز اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی کے قریبی عزیز یا دوست کی آواز میں فون کرکے ہنگامی صورتحال کا بہانہ بناسکتے ہیں اور فوری رقم بھیجنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

ایسی ویڈیوز بھی تیار کی جاسکتی ہیں جن میں کسی معروف شخصیت یا قابلِ اعتماد فرد کو ایسی باتیں کہتے دکھایا جائے جو اس نے حقیقت میں کبھی نہیں کہیں۔

آن لائن محبت اور دوستی کے نام پر فراڈ

مصنوعی ذہانت کی مدد سے نوسرباز سوشل میڈیا پر جعلی شناخت بنا کر لوگوں سے طویل عرصے تک رابطے میں رہ سکتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی انہیں سامنے والے شخص کی ذاتی معلومات، پسند ناپسند اور سابقہ گفتگو یاد رکھنے میں مدد دیتی ہے جس کے ذریعے وہ کئی ہفتوں یا مہینوں تک اعتماد قائم کرکے بالآخر رقم یا مالی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جعلی ای میلز اور پیغامات

پہلے جعلسازی پر مبنی ای میلز اور پیغامات میں اکثر املا اور زبان کی غلطیاں ہوتی تھیں جن سے ان کی شناخت نسبتاً آسان ہوجاتی تھی۔

مزید پڑھیں: نوسرباز آپ کی آواز چرا سکتے ہیں لیکن ایک راز نہیں جان سکتے، جانیے اے آئی فراڈ سے بچنے کا مؤثر طریقہ

لیکن اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے انتہائی شستہ، درست اور ذاتی نوعیت کے ای میلز، ٹیکسٹ پیغامات اور سوشل میڈیا پوسٹس بڑی تعداد میں تیار کیے جاسکتے ہیں۔ ان میں کسی شخص کا نام، ملازمت یا دیگر معلومات شامل کرکے پیغام کو زیادہ قابلِ اعتماد بنایا جاسکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے فراڈ سے خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟

ماہرین کے مطابق آن لائن فراڈ سے بچنے کے لیے اب پہلے سے زیادہ محتاط رہنے اور کسی بھی مالی لین دین سے قبل تصدیق کرنے کی ضرورت ہے۔

چند احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ایسے فراڈ کا شکار ہونے کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔

بغیر تصدیق رقم نہ بھیجیں

کسی ایسے شخص کو رقم، گفٹ کارڈ یا اپنی ذاتی اور مالی معلومات فراہم نہ کریں جس کی شناخت اور حیثیت کی آپ نے قابلِ اعتماد ذریعے سے تصدیق نہ کی ہو۔

آن لائن کاروبار کی حقیقت جانچیں

کسی ویب سائٹ سے خریداری کرنے سے پہلے اس کاروبار کا نام، پتا، رابطہ نمبر اور دیگر معلومات تلاش کریں۔ یہ بھی دیکھیں کہ آیا اس کا حقیقی کاروبار اور قابلِ تصدیق صارفین کے جائزے موجود ہیں یا نہیں۔

آواز یا ویڈیو پر اندھا اعتماد نہ کریں

اگر کسی عزیز یا دوست کی آواز میں ہنگامی صورتحال کا بتاکر رقم مانگی جائے تو صرف آواز سن کر یقین نہ کریں۔ اس شخص کے پہلے سے معلوم نمبر پر خود رابطہ کرکے یا کسی دوسرے قابلِ اعتماد ذریعے سے تصدیق کریں۔

یہ بھی پڑھیے: آن لائن پرائیویسی کی حفاظت: والدین کو بچوں کو انجانے خطرے کی طرح محتاط رہنے کی ہدایت

ملازمت کی پیشکش کی تصدیق کریں: اگر کسی ادارے کی جانب سے ملازمت کی پیشکش موصول ہو تو اس کی سرکاری ویب سائٹ یا مستند رابطہ ذرائع کے ذریعے تصدیق کریں۔ محض ای میل یا پیغام میں موجود معلومات پر بھروسا نہ کریں۔

مالی اداروں کی حیثیت چیک کریں: سرمایہ کاری یا مالی مشورے کی پیشکش کرنے والے اداروں کی قانونی حیثیت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے اجازت کی تصدیق ضرور کریں۔

غیرمعمولی جلد بازی سے محتاط رہیں: اگر کوئی شخص فوری رقم بھیجنے، لنک کھولنے یا ذاتی معلومات فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے تو فوراً عمل کرنے کے بجائے رک کر سوچیں۔ جعل ساز عموماً لوگوں کو سوچنے اور تصدیق کرنے کا موقع دیے بغیر فیصلہ کروانا چاہتے ہیں۔

فراڈ کی شناخت کے پرانے طریقے اب کافی نہیں

صارفین کے تحفظ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے باعث فراڈ کی شناخت کے روایتی طریقے اب پہلے کی طرح مؤثر نہیں رہے۔

مثلاً کسی ای میل یا پیغام میں املا کی غلطیاں نہ ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ مستند ہے۔ اسی طرح خوبصورت ویب سائٹ، معیاری تصاویر اور شائستہ زبان بھی کسی کاروبار کی اصلیت کا ثبوت نہیں۔

اس لیے کسی بھی پیغام، فون کال یا آن لائن پیشکش پر یقین کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ تصدیق کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: آپ کے گھر کا پتا اور ذاتی معلومات آن لائن فروخت ہو رہی ہیں، تدارک کیا ہے؟

ماہرین کا بنیادی مشورہ یہی ہے کہ رقم بھیجنے، ذاتی معلومات فراہم کرنے یا کسی مشکوک درخواست پر عمل کرنے سے پہلے رکیں، سوچیں اور تصدیق کریں کیونکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں دھوکا دینے والے طریقے جتنے جدید ہوگئے ہیں اتنی ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp