ایف بی آر میں کس کی نوکری بچے گی اور کون فارغ ہوگا؟ وزیراعظم نے واضح کردیا

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات کی رفتار مزید تیز کرنے اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے والے افسران اور ملازمین کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے میں جاری اصلاحات، ٹیکس وصولیوں کے نظام اور انتظامی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم ٹیکس گیپ پر قابو پانے کے لیے ادارے کی استعداد کار میں مسلسل بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اصلاحات کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، افسران کی مؤثر تربیت، شفافیت اور جوابدہی پر خصوصی توجہ دی جائے، جبکہ ٹیکس وصولی کے شعبوں میں فیس لیس نظام کے نفاذ کا عمل بھی تیز کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کی توقعات کے مطابق اپنی کارکردگی بہتر بنائیں۔ ادارے میں جاری اصلاحات ریاست کے وسیع تر مفاد میں ہیں اور ان پر عمل درآمد ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔

شہباز شریف نے واضح کیاکہ اپنے رویے اور کارکردگی میں بہتری لانے والے افسران اور عملے کو اصلاح کا موقع دیا جائے، تاہم بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے والوں کے لیے ادارے میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

ٹیکس گیپ میں کمی، وزیراعظم کو اصلاحات پر بریفنگ

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو ایف بی آر میں جاری اصلاحات کی تازہ ترین پیش رفت اور اب تک حاصل ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا گیا۔ حکام نے ٹیکنالوجی، نظام کار اور افرادی قوت کے شعبوں میں متعارف کرائی گئی تبدیلیوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 3 سال کے دوران اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ مجموعی قومی پیداوار کے 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے۔

حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے ایف بی آر افسران کے صوابدیدی اختیارات میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے ادارے کے نظام کار کو مزید شفاف بنانے میں مدد ملی ہے۔

ایف بی آر افسران کی تربیت اور کارکردگی جانچنے کا نیا نظام

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر میں نئے تعینات ہونے والے افسران کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پہلے سے خدمات انجام دینے والے افسران کے لیے دوران ملازمت تربیتی پروگرام بھی جاری ہیں۔

حکام کے مطابق افسران کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے پیئر ریٹنگ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی جانچی جا رہی ہے۔

957 آڈیٹرز کی تعیناتی، آڈٹ کی استعداد میں 4 گنا اضافہ

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر کی آڈٹ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 957 آڈیٹرز کو میرٹ کی بنیاد پر کنٹریکٹ پر تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ان آڈیٹرز کی تعیناتی سے ایف بی آر کی آڈٹ کرنے کی استعداد میں 4 گنا اضافہ ہوا ہے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر کی تکنیکی بنیادوں پر وسیع پیمانے پر تنظیم نو جاری ہے، جبکہ مہارت یافتہ تکنیکی افرادی قوت کی بھرتی اور ملازمین کی کارکردگی سے منسلک مراعات کا نظام بھی متعارف کرایا جا چکا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp