جیکب آباد کے شہری برسوں سے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، تباہ حال گلیوں اور گرد و غبار میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب سرکاری ریکارڈ ایک مختلف کہانی بیان کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکھر میں کاٹن فیکٹری کی گرد سے شہری پریشان، سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالات
سال2025, 2026 کے سرکاری اخراجاتی ریکارڈ میں جیکب آباد شہر کی سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر کے 6 منصوبوں پر مجموعی طور پر 51 کروڑ 23 لاکھ 90 ہزار 63 روپے کا خرچ درج ہے جن میں ورکس اینڈ سروسز کے 46 کروڑ 24 لاکھ 90 ہزار 207 روپے جبکہ لوکل گورنمنٹ کے 4 کروڑ 98 لاکھ 99 ہزار 856 روپے شامل ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کروڑوں روپے خرچ ہو چکے ہیں تو جیکب آباد کی سڑکیں آج بھی بدحال کیوں ہیں؟
ایسے منصوبوں کی بھی نشاندہی ہوئی ہے جن کے لیے سرکاری ریکارڈ میں ترقیاتی کام اور اخراجات درج ہیں جبکہ زمینی صورتحال ان دعووں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ان میں شہر کے بیچ ڈی سی چوک سے لے کر سٹی تھانہ تک ایک اہم سڑک بھی شامل ہے جس کی تعمیر کے لیے جون 2025 میں 25 کروڑ خرچ دکھائے گئے لیکن شہریوں کے بقول اس سڑک کے ایک انچ پر بھی کام نہیں ہوا۔
مزید پڑھیے: سکھر تا حیدرآباد ایم 6 موٹروے منصوبہ پھر تاخیر کا شکار، حکومتی دعوے برقرار
یہ صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے کہ ترقیاتی منصوبے کاغذوں میں مکمل اور زمین پر نامکمل ہیں کہیں پیسہ کرپشن کی نذر تو نہیں ہوگیا۔
جیکب آباد کے شہریوں نے سہولیات کی عدم فراہمی کی شکایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے بڑے صوبے میں کرپشن کی روک تھام اور گورننس بہتر کرنا محال ہے۔
مزید پڑھیں: حیدرآباد: سڑکوں کی زبوں حالی اور بیڈ گورننس، اربوں روپے کہاں جا رہے ہیں اور مقامی مسائل کون حل کرے گا؟
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ مقامی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنائے جائیں۔ دیکھیے جنید ذوالفقار کی یہ ویڈیو رپورٹ۔










