سکھر تا حیدرآباد ایم 6 موٹروے منصوبہ پھر تاخیر کا شکار، حکومتی دعوے برقرار

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی سے اندرونِ سندھ اور پھر پنجاب تک زمینی رابطے کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جانے والا سکھرتا حیدرآباد موٹروے ایم 6 کا منصوبہ ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہے۔

گزشتہ کئی برسوں کے دوران اس منصوبے کی تکمیل کے متعدد وعدے کیے گئے، مختلف اوقات میں نئی ڈیڈ لائنز دی گئیں اور مالی وسائل کی فراہمی کے اعلانات بھی سامنے آئے، تاہم منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔

4 جولائی کو وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے منصوبے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت رواں سال کے دوران ایم-6 منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مانسہرہ تا چلاس نئی موٹروے کی منظوری، چین سے براہِ راست رابطے کا منصوبہ 2 مرحلوں میں مکمل ہوگا

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حال ہی میں وزارت کا قلمدان سنبھالا ہے، اس لیے منصوبے میں ہونے والی تاخیر کا جواب ان حکومتوں کو دینا چاہیے جو 1997 سے مختلف ادوار میں اقتدار میں رہیں۔

ان کے مطابق موجودہ حکومت اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

اس سے قبل دسمبر 2022 میں وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبے کی تکمیل کے لیے 36 ماہ کی مدت کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں شدید بارش، موٹروے پر مسافر گاڑیوں کا داخلہ عارضی طور پر بند

اس اعلان کے بعد امید ظاہر کی گئی تھی کہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو جائے گا، تاہم وہ مدت بھی گزر چکی ہے اور ایم 6 اب بھی زیرِ تکمیل ہے۔

اکتوبر 2025 میں اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے منصوبے کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی گئی، جس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا تھا کہ اپریل 2026 تک منصوبے پر عملی کام شروع ہو جائے گا۔

تاہم جولائی 2026 کا نصف گزرنے کے باوجود منصوبے پر نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث ایک مرتبہ پھر اس کی تکمیل کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: نئی موٹرویز کم از کم 6 لین بنانے کا فیصلہ، این ایچ اے

دوسری جانب حالیہ دنوں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے وفاقی حکومت پر سندھ کے ساتھ ناانصافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے اہم ترقیاتی منصوبوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

یہ معاملہ اس سے قبل بھی سیاسی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ جنوری 2026 میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سید نوید قمر نے مؤقف اختیار کیا کہ دیگر موٹروے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ سکھرتا حیدرآباد موٹروے مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔

اس پر وفاقی وزرا نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایم 6 منصوبے کے لیے مختص فنڈز کسی دوسرے منصوبے کو منتقل کیے جا رہے ہیں اور مؤقف اختیار کیا کہ حکومت اس منصوبے کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔

مزید پڑھیں: ایم ایل ون، کراچی روہڑی سیکشن پر کام کا آغاز کب ہوگا؟ احسن اقبال نے خوشخبری سنا دی

ایم 6 موٹروے صرف ایک شاہراہ نہیں بلکہ کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ، خیرپور اور سکھر کے درمیان سفر، تجارت اور مال برداری کے لیے ایک اہم منصوبہ تصور کیا جاتا ہے۔

اس کی تکمیل سے نہ صرف سفری وقت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ قومی شاہراہ پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے ملکی تجارت، صنعتی سرگرمیوں اور بندرگاہوں سے سامان کی ترسیل میں بھی بہتری آئے گی۔

مزید پڑھیں: ایم ایل ون منصوبہ: کراچی پورٹ سے تعمیراتی کام جولائی میں شروع ہونے کا امکان

دوسری جانب مسلسل تاخیر کے باعث سندھ کے شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

ماضی میں بھی سندھ حکومت اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے، جن کے اثرات متعدد ترقیاتی منصوبوں پر پڑے۔

اب جبکہ ایک مرتبہ پھر منصوبے کی تکمیل کے دعوے سامنے آ رہے ہیں، عوام کی نظریں عملی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سندھ کے شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اس بار کیے گئے وعدے حقیقت کا روپ دھاریں گے یا ایم 6 موٹروے ایک مرتبہ پھر نئی تاریخوں، نئی یقین دہانیوں اور سیاسی بیانات کا ہی موضوع بنی رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میانمار کا 3 لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی پر آمادگی کا دعویٰ

بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر سمیت ناگالینڈ، آسام اور منی پور میں یوم سیاہ کی کال

علمی سرقہ اسکینڈل میں’گرفتار‘ کیمبرج کے سابق پروفیسر کی پُراسرار موت

پاک سعودی فضائی رابطوں میں نیا اضافہ، ریاض ایئر کی پہلی پرواز کی اسلام آباد لینڈنگ، واٹر سیلوٹ پیش

پہلے ’پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز‘: کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیسے ہوگا؟

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی