امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی انتخابی حمایت سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے انتخابات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے اور ان کی توجہ امریکی انتخابات پر مرکوز ہے۔
صحافی مارک ہالپرین کو پیر کے روز انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ نہ تو نیتن یاہو کی حمایت کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کی مخالفت، وہ اسرائیلی انتخابات میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اسرائیل کا نگراں نہیں، شراکت دار ہے، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس
انہوں نے کہا کہ وہ امریکی امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں اور اس وقت ان کی توجہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتوار کو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حمایت کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات میں دوبارہ وزیراعظم بننے کے خواہش مند ہیں۔
Q: Trump endorsed Netanyahu. Do you endorse Netanyahu?
JD Vance: I endorse American candidates. I’m not getting involved in Israeli elections. https://t.co/TXYncDC4LR
— Clash Report (@clashreport) October 19, 2026
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جے ڈی وینس کا اسرائیلی انتخابات سے دور رہنے کا مؤقف یورپی انتخابات میں ان کے سابقہ طرزعمل سے مختلف ہے۔ وہ اپریل میں ہنگری کے پارلیمانی انتخابات سے چند روز قبل دارالحکومت بوداپیسٹ گئے تھے، جہاں انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم وکٹر اوربان کی حمایت کی تھی۔
وینس جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی حمایت بھی کر چکے ہیں اور گزشتہ سال اس جماعت کی رہنما ایلس وائیڈل سے ملاقات بھی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں نسل کشی کے باوجود امریکا اسرائیل کو 6.4 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کو تیار
امریکی نائب صدر کو 2029 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ جانشین کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع کرنے کی مخالفت کی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے اس فوجی کارروائی کا دفاع کیا۔
جے ڈی وینس نے جون میں امریکا اور ایران کے درمیان مختصر مدت کی جنگ بندی پر تنقید کرنے والے اسرائیلی حکام کو بھی سخت جواب دیا تھا۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ صدر ٹرمپ دنیا کے واحد سربراہ مملکت ہیں جو موجودہ صورت حال میں اسرائیل کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر وہ اسرائیلی حکومت کی کابینہ میں ہوتے تو دنیا میں اپنے واحد طاقتور اتحادی پر تنقید کرنے سے گریز کرتے۔











