چین نے ہینان کمرشل لانچ سائٹ سے لانگ مارچ 8-اے راکٹ کے ذریعے لو آؤربٹ انٹرنیٹ سیٹلائٹس کا 28 واں بیچ کامیابی سے خلاء میں روانہ کر دیا ہے۔
اتوار کے روز چینی دارالحکومت بیجنگ کے وقت کے مطابق صبح 10:03 بجے ہینان کمرشل اسپیس کرافٹ لانچ سائٹ سے لانگ مارچ 8-اے راکٹ نے شاندار پرواز کی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اس راکٹ پر سوار تمام پے لوڈز اپنے مقررہ مدار میں کامیابی کے ساتھ داخل ہو چکے ہیں۔ یہ تاریخی پرواز لانگ مارچ راکٹ سیریز کی مجموعی طور پر 674 ویں پرواز تھی۔
راکٹ کی تکنیکی خصوصیات اور پے لوڈ کی صلاحیت
لانگ مارچ 8-اے راکٹ بالخصوص زمین کے ماحول میں درمیانے اور نچلے مدار کے کونسیلیشن نیٹ ورکس کی تعمیر کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
The Long March 10 launch complex under construction at Wenchang, framed against the ascending Long March 8A Y12 in the distance. https://t.co/XZZBacE4Pi
— CNSPACE (@CNSpaceflight) October 25, 2026
اس راکٹ کا پہلا کامیاب تجربہ 11 فروری 2025 کو کیا گیا تھا، جس میں سن سنکرونس مدار تک 7 ٹن تک کارگو لے جانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
اس کی چوڑی نوز سیٹلائٹس کو مدار میں آزادانہ حرکت اور مینیور کرنے کے لیے اضافی جگہ فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت چین فی پرواز زیادہ تعداد میں سیٹلائٹس کے کلسٹرز کو خلاء میں تعینات کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
سیٹلائٹس کی تیاری اور حالیہ لانچز کا تسلسل
ان تمام جدید سیٹلائٹس کو چائنا اکیڈمی آف اسپیس ٹیکنالوجی نے تخلیق کیا ہے۔ اگرچہ اتوار کو جاری کردہ بیان میں سیٹلائٹس کی حتمی تعداد کی فوری وضاحت نہیں کی گئی، تاہم اس سے قبل 26 دسمبر 2025 کو لانچ کیے جانے والے 17 ویں کلسٹر میں 9 سیٹلائٹس موجود تھے۔
🚀 Liftoff at 02:03UTC October 25, Long March 8A Y12 launched SatNet LEO Group 28 from Hainan https://t.co/61g8SZpvfn
— CNSPACE (@CNSpaceflight) October 25, 2026
خلائی پروازوں کا یہ سلسلہ انتہائی تیزی سے جاری ہے، اس سے قبل 20 واں گروپ 13 مارچ 2026 کو لانچ کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے گزشتہ تقریباً 7 ماہ کے دوران مزید 8 گروپس فضا میں بھیجے جا چکے ہیں۔
لانگ مارچ سیریز کی پروازیں بلا تعطل جاری رہیں، جن میں جنوری میں لانچ ہونے والا 18 واں گروپ اس سیریز کا 625 واں لانچ بنا تھا اور اس کے بعد سے اب تک 49 مزید کامیاب پروازیں کی جا چکی ہیں۔
اسٹارلنک کے ساتھ مسابقت اور مستقبل کا ہدف
چین کے اس مستقبل کے بلند و بانگ منصوبے کے تحت کل تقریباً 13,000 سیٹلائٹس کو اس چینی کونسیلیشن کا حصہ بنایا جانا ہے۔
اس موقع پر خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنے بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس وقت ایلون مسک کے پروجیکٹ اسٹارلنک کے پاس مدار میں تقریباً 7,000 سیٹلائٹس موجود ہیں اور بیجنگ کی واضح حکمت عملی تعداد کے اعتبار سے ان کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے برتری حاصل کرنا ہے۔











