دنیا میں شدید گرمی کی نئی لہر، ہیٹ اسٹورمز کی تعداد 5 سے بڑھ کر 102 سالانہ ہوگئی

منگل 20 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہروں کی شدت، پھیلاؤ اور تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگیا، 1960 کی دہائی میں سالانہ اوسطاً 5 بڑے گرم موسمی واقعات ریکارڈ کیے جاتے تھے، جو موجودہ دہائی میں بڑھ کر تقریباً 102 سالانہ ہوگئے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق بعض واقعات مہینوں تک جاری رہتے ہیں اور کرہ ارض کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی تحقیقات کے مطابق موسمیاتی ماہرین سے مشاورت اور 1960 سے دنیا بھر کے درجہ حرارت کے اعداد و شمار کے تجزیے کے بعد شدید گرمی کے ان غیر معمولی اور وسیع پیمانے پر پھیلنے والے واقعات کے لیے ‘ہیٹ اسٹورم’ کی اصطلاح متعارف کرائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی آفات کا مقابلہ: 5 پاکستانی شہر کمزور شہروں میں شامل، بھارت کے احمدآباد سے قدرے بہتر

تحقیق میں عام ہیٹ ویو کی تعریف غیر معمولی طور پر بلند درجہ حرارت کے مسلسل 5 یا اس سے زیادہ دنوں کو قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایسے بڑے واقعات جن کے عروج پر دنیا کی کم از کم ایک فیصد سطح متاثر ہو، انہیں ہیٹ اسٹورم کہا گیا ہے۔ یہ رقبہ تقریباً کینیڈا کے نصف حصے کے برابر ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریکارڈ کی گئی سب سے بڑی ہیٹ اسٹورم ‘ویرا’ 2023 اور 2024 کے دوران 367 دن تک جاری رہی اور اس نے دنیا کی تقریباً 85 فیصد سطح کو متاثر کیا۔ اس کے اثرات مختلف خطوں میں سامنے آئے، جہاں شدید گرمی سے انسانی صحت، جنگلی حیات اور زراعت کو نقصان پہنچا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافے کے ساتھ شدید گرمی کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔ 1960 کی دہائی سے موجودہ دہائی تک فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جبکہ ہیٹ ویوز اور ہیٹ اسٹورمز سے متاثر ہونے والے کرہ ارض کے اوسط رقبے میں 12 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی

رائٹرز کے مطابق شدید گرمی کے مسلسل یا بیک وقت جاری رہنے والے واقعات کو ‘ہیٹ اسٹورم کاسکیڈز’ کا نام دیا گیا ہے۔ 1960 کی دہائی میں ایسے واقعات کا اوسط دورانیہ تقریباً 2 ماہ تھا، جو 2000 کی دہائی کے اوائل میں بڑھ کر 9 ماہ ہوگیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 6 جولائی 2008 کو شروع ہونے والے ایسے مسلسل سلسلے کا سلسلہ اب تک نہیں رکا اور 18 سال سے زائد عرصے میں دنیا پر کم از کم ایک ہیٹ اسٹورم مسلسل اثر انداز ہوتی رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا ‘ریمونڈو’ نامی ہیٹ اسٹورم کی لپیٹ میں ہے، جو 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی۔ اس نے رواں موسم گرما میں یورپ میں شدید گرمی پیدا کی اور اسپین اور فرانس میں بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ کو مزید بھڑکایا۔ اس ہیٹ اسٹورم نے اب تک دنیا کی تقریباً تین چوتھائی سطح کو متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شدید گرمی ذہن کو بھی متاثر کرتی ہے، ماہرین نے ’ہیٹ ویو اینگزائٹی‘ سے نمٹنے کے طریقے بتا دیے

رائٹرز نے شدید گرمی کے ان واقعات کی نگرانی کے لیے ایک آن لائن ٹریکر بھی متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے ہیٹ اسٹورمز کے نام، ان کی پیش رفت اور دنیا بھر میں ان کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا جاسکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مائیکروسوفٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کا پیکیج دینے کا فیصلہ کیوں؟

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

خیبرپختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پلان، شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

موسم سرما کی آمد، بلوچستان کے کون سے علاقے سیاحوں کے لیے پُرکشش بن سکتے ہیں؟

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں