امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے صحافیوں کو صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں سفر اور کوریج سے روکنے کی پابندی ختم نہ کی گئی تو وہ دوبارہ عدالت سے رجوع کرے گا۔
سی این این نے وائٹ ہاؤس کو جمعرات شام 5 بجے تک پابندیاں ختم کرنے کی مہلت دی ہے۔ نیٹ ورک کے وکیل ٹیڈ بوٹروس نے انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ سی این این کی خبروں کی بنیاد پر ادارے کو نشانہ بنا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سی این این پر پابندی کے بعد بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کا ٹرمپ کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان
ٹیڈ بوٹروس نے کہا کہ سی این این کی خبروں کے مواد کی بنیاد پر ادارے کے خلاف انتقامی کارروائی اور امتیازی سلوک کی کوششیں غلط، نقصان دہ اور غیر قانونی ہیں۔
یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے ایک وفاقی جج کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں وائٹ ہاؤس کو سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر پابندیاں دوبارہ عائد کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ان اداروں کو وائٹ ہاؤس کی حدود میں دوبارہ رسائی تو مل گئی، تاہم صدارتی پریس پول میں شرکت کی ضمانت نہیں دی گئی۔
سی این این کے مطابق اس کے صحافیوں کو کئی مرتبہ ایئر فورس ون میں سفر کرنے سے روکا گیا، حالانکہ انہیں ٹیلی وژن نیوز اداروں کی نمائندگی کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی جانب سے میڈیا کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی آئین کی خلاف ورزی، وفاقی جج نے اہم رولنگ دیدی
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے پابندیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو صدر کی حساس تنصیبات میں داخلے کا آئینی حق حاصل نہیں۔ تاہم ٹیڈ بوٹروس نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر ایئر فورس ون اور اوول آفس میں اکثر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہیں۔
سی این این نے واضح کیا ہے کہ پابندیاں برقرار رہنے کی صورت میں وہ دوبارہ عدالت سے رجوع کرے گا، جس سے وائٹ ہاؤس اور نشریاتی ادارے کے درمیان صحافیوں کی رسائی کا تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔








