امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے قرار دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بعض میڈیا اداروں پر وائٹ ہاؤس میں داخلے کی پابندی عائد کرنا ممکنہ طور پر امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے، جو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کا تحفظ کرتی ہے۔
وفاقی جج ٹم کیلی نے منگل کو حکم دیا کہ مقدمے کی سماعت جاری رہنے کے دوران سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس تک رسائی دی جائے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کا میڈیا پر ایک اور وار؟ سی این این سمیت 3 اداروں کا وائٹ ہاؤس میں داخلہ بند
جج ٹم کیلی نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ صدر ٹرمپ کے اپنے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میڈیا اداروں کے صحافیوں کے خصوصی پریس پاس ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے منسوخ کیے گئے۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ ان اداروں کی خبریں عموماً غیر درست، منفی اور ان کے خلاف جانبدارانہ ہوتی ہیں۔ جج کے مطابق ان بیانات سے یہ امکان تقویت پاتا ہے کہ پابندی صحافتی رپورٹنگ پر انتقامی ردعمل کے طور پر عائد کی گئی، جو آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ سی این این اور نیویارک ٹائمز پر کیوں برس پڑے؟
امریکی محکمۂ انصاف نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ پابندی کی ایک وجہ قومی سلامتی کے خدشات بھی تھے۔ حکومت نے ایران جنگ، وائٹ ہاؤس کے ایسٹ وِنگ میں بال روم کی تعمیر اور ری پبلکن پارٹی کے وسط مدتی کنونشن سے متعلق خبروں کا حوالہ دیا۔ تاہم جج کیلی نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ میں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ پریس پاس منسوخ کرتے وقت قومی سلامتی بنیادی وجہ تھی۔ ان کے مطابق حکومت یہ بھی واضح نہیں کر سکی کہ متعلقہ خبروں میں کون سی مخصوص معلومات خفیہ یا حساس تھیں۔
میڈیا اداروں کے وکیل ٹیڈ بوٹروس نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایسی رپورٹنگ کی سزا دینے کے لیے پابندی عائد کی جسے وہ پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف متعلقہ اداروں بلکہ آزادیٔ صحافت اور عوام کے معلومات حاصل کرنے کے حق کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیے ’سی این این کی خاتون رپورٹر کے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ سیخ پا، وائٹ ہاؤس بھی آگ بگولا
دوسری جانب جج کیلی نے واضح کیا کہ ان کا فیصلہ حکومت کو خفیہ معلومات کے غیر قانونی انکشافات کے خلاف کارروائی سے نہیں روکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا تحفظ اہم ہے، تاہم اس مقدمے میں پابندی کے جواز کے لیے ناکافی شواہد پیش کیے گئے۔ تازہ عدالتی حکم سے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے فیصلے کے خلاف اپیل کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔














