امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے دوران 3 لاکھ سے زائد امریکی ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو یہ اعداد و شمار جاری کیے، جس کے مطابق جنوری 2025 سے اب تک ویزے منسوخ کرنے کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت کے پوشیدہ مسائل: ڈاکٹروں نے کیا انکشاف کیا؟
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے 10 اگست 2026 کو بتایا تھا کہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اب 3 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
NOW: Marco Rubio and Donald Trump REVOKE 300,000 THOUSAND VISAS
This comes after the previous number was 250,000!
That’s 50,000 more in about a month.
About 4,000 of them were tied to birth tourism, where people fly in just to have a baby and walk out with a U.S. passport for https://t.co/IGQQh2LPf7
— MAGA 45 & 47 🇺🇲 🦅 (@maga_usa4547) October 20, 2026
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ انتظامیہ نے ویزوں کی منسوخی پہلے کی کسی بھی امریکی انتظامیہ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کی ہے۔ ان کے مطابق، امریکا میں ویزے پر مقیم ایسے غیر ملکیوں کے خلاف سخت پالیسی اپنائی گئی ہے جو قانون توڑیں، دھوکا دہی میں ملوث ہوں یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے امریکی حکومت کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے قانونی کارروائی کے منصفانہ حق اور آزادیٔ اظہار سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت مزید کم، ڈیموکریٹس کی حمایت دوگنا ہوگئی
غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے بعض غیر ملکیوں اور سوشل میڈیا پر تبصروں کے باعث ویزے منسوخ کیے جانے پر بھی تنقید کی گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے تارکینِ وطن اور ویزا درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا جانچ پڑتال بھی سخت کی ہے، جبکہ بعض ورک ویزوں کی فیس میں اضافے سے قانونی امیگریشن مزید مشکل ہوئی ہے۔ امریکی حکومت ان اقدامات کو ملکی سلامتی کے تحفظ سے جوڑتی ہے، جبکہ ناقدین ان کے ممکنہ اثرات پر سوال اٹھاتے ہیں۔








