امریکا میں کانگریس پر کس پارٹی کا کنٹرول ہوگا؟ اس کا فیصلہ کرنے والے اہم مڈ ٹرم انتخابات سے صرف ایک ماہ قبل سامنے آنے والے سروے کے نتائج نے ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
‘رائٹرز اور اپسوس’ کے نئے سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر ریکارڈ 32 فیصد کی سطح پر آ چکی ہے۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024ء کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت کرنے والے آزاد ووٹرز اور لاطینی برادری (لیٹینو) کے ووٹرز اب ان کی پالیسیوں سے دور ہو رہے ہیں۔
پیر کے روز نیبراسکا کے دورے پر روانگی سے قبل جب صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس کو نظر انداز کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ مقبولیت کی سب سے نچلی سطح پر جاگرے، وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو بڑا دھچکا
ایک صحافی کی جانب سے لاطینی ووٹرز کی حمایت میں کمی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ٹرمپ نے جواب دیا، ’میں بہت زبردست کام کر رہا ہوں۔‘ اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے ‘سی این این’ اور دیگر امریکی میڈیا کو مقبولیت میں کمی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
تاہم، ‘این بی سی نیوز/ٹیلی منڈو’ کی جانب سے جاری کردہ ایک اور سروے میں بتایا گیا ہے کہ 59 فیصد لاطینی ووٹرز چاہتے ہیں کہ کانگریس پر ڈیموکریٹک پارٹی کو کنٹرول حاصل ہو۔ اس خیال کے حامل لوگوں کی تعداد میں گزشتہ 2 برسوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ اسی سروے کے مطابق صرف 24 فیصد ہسپانوی و لاطینی امریکی ایسے ہیں جو ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔
صدر ٹرمپ پچھلے کچھ دنوں سے ریپبلکن امیدواروں کی مہم کے سلسلہ میں ملک بھر کے دورے کر رہے ہیں، لیکن اب قدامت پسند اور ریپبلکنز کے روایتی گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں میں بھی ان کی حمایت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی مقبولیت سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
مقامی سطح پر اپنا ووٹ بینک بچانے کی خاطر کئی ریپبلکن رہنماؤں نے امیگریشن جیسے متنازع امور پر خود کو صدر کے بیانیے سے الگ کرنا شروع کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی عوام میں معاشی تحفظات، ایران کے ساتھ جنگی صورتحال اور انتظامیہ کے دیگر اہم فیصلوں سے پیدا ہونے والی مایوسی کا اثر انتہائی دور رس ثابت ہو سکتا ہے، جو مڈ ٹرم انتخابات کے نتائج کو یکسر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔














