باغ جل رہا ہے

جمعرات 22 اکتوبر 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جدید مغرب کی پوری جیوپالیٹکس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ دور ہے جب وسائل کے لیے ممالک پر قبضے بہ ایں معنی قانونی تھے کہ کوئی عالمی قانون اس کے آگے رکاوٹ نہ تھا۔ یہ مغرب کا کلونیل دور تھا، جس کے دوران یہ لاطینی امریکا سے چین تک قبضے جماتے چلے گئے۔ پھر آیا وہ دور جب 30 کی دہائی میں ممالک پر قبضے ناجائز قرار دے دیے گئے۔ یہاں سے مغرب نے جغرافیائی قبضے کی جگہ ’سیاسی قبضے‘ کی حکمت عملی متعارف کرائی۔

اس دوسرے دور میں ٹارگٹ ملک سے وسائل کی من چاہی قیمتوں کے لیے نام نہاد قسم کی پرامن بات چیت شروع کی جاتی۔ وہ نہ مانتا تو اس کے خلاف عالمی سطح کے پروپیگنڈے سے ماحول بنا کر پابندیاں لگا دی جاتیں، اور جب پابندیوں کا شکار ملک کمزور ہوجاتا تو پھر اس پر یلغار کردی جاتی۔ اس کی لاتعداد مثالیں ہیں، جن میں سے ایران تازہ ترین ہے۔

جب بات وسائل کی آتی ہے تو 11 ٹائم زون اور ایک کروڑ 71 لاکھ مربع کلومیٹر والے روس کا اس باب میں کوئی مقابل نہیں۔ اس کا یہ رقبہ ہر طرح کے قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ یورپ صدیوں سے اس پر قبضے کی کوششیں کرتا آیا، مگر نپیولین سے لے کر ہٹلر تک کسی کے بھی ہاتھ مکمل نامرادی کے سوا کچھ نہ آیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ کوششیں فقط یورپین نہیں رہیں، بلکہ روسی وسائل پر قبضہ امریکا کی امامت میں پورے مغرب کا خواب بن گیا۔ یہ موقع انہیں تب ملا جب سوویت یونین کے تحلیل ہونے سے روس معاشی طور بدترین صورتحال سے دوچار ہوگیا۔ بڑی صنعتوں کی ریٹنگ و رینکنگ طے کرنے والے امریکی اداروں نے روس کی اسٹریٹیجک صنعتوں کی من چاہی قیمتیں طے کیں اور انہیں خرید لیا۔

ابھی یہ قبضہ مستحکم بھی نہ کر پائے تھے کہ کہیں سے ایک گمنام شخص کریملن کا نیا مکین بن کر آگیا۔ ہم شاعری کے موڈ میں نہیں، واقعتاً ایسا ہی ہوا تھا کہ جب روسی صدر بورس یلسن نے اچانک اقتدار ولادیمیر پیوٹن کے سپرد کرکے گھر کی راہ لی تو مغرب میں ایک ہی سوال کی گونج سنائی دی۔ ’کون ہے یہ پیوٹن؟ کہاں سے آیا یہ پیوٹن؟‘ وہ ابھی ڈھنگ سے اس سے متعلق معلومات بھی اکٹھی نہ کرپائے تھے کہ پیوٹن نے لات مار کر امریکی قابضین کو واپس واشنگٹن پہنچا دیا۔ اور اپنی صنعتیں واپس حاصل کرلیں۔ یوں مغرب بہت اچھے سے جان گیا کہ کون ہے یہ پیوٹن؟

روس کو واپس فعال سپر طاقت والی پوزیشن تک پہنچانے میں پیوٹن کو صرف 20 لگے۔ ان 20 برسوں میں مغرب کے ذہین ترین لوگوں نے کچھ ایسے اقدامات اٹھا لیے تھے جن سے واضح تھا کہ وہ روس پر کاری ضرب لگانے کی بڑی تیاری میں ہیں۔ مثلاً نیٹو کو روس کی سرحدوں تک توسیع دینا۔ اور تخفیف اسلحہ وغیرہ کے تمام معاہدے یکطرفہ طور پر توڑ دینا۔ مگر معاہدوں سے یہ نکلنا بھی پیوٹن اور اس کے روس کے کام آیا۔ پیوٹن نے وہ وہ ہتھیار متعارف کرا دیے جن کا ہم پلہ یا تدارک کرنے والا ہتھیار کسی بھی مغربی ملک کے پاس تاحال نہیں۔

اسی دوران نیٹو کو روسی سرحدوں تک توسیع دینے والی اسکیم یوکرین میں اپنی پیک پر پہنچی تو وہی ہوا جس کا پیوٹن نے مغرب سے وعدہ کر رکھا تھا۔ پیوٹن نے 2007 میں ہی کہہ دیا تھا کہ یوکرین ہماری ریڈ لائن ہے۔ اسے چھیڑا گیا تو نتیجہ جنگ کی صورت بھگتنا پڑے گا۔ وہ 2007 سے 2022 تک مسلسل خبردار کرتا رہا مگر مغرب کے بند کمروں میں کچھ اور ہی خیالی پلاؤ پک رہا تھا۔ سارے گورے شیخ چلی ایک دوسرے سے یہ کہتے پائے جا رہے تھے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کردیتا ہے تو سمجھو ہمارا کام بن گیا۔ یہ حملہ روس کی بدترین شکست، پیوٹن کے زوال اور روس کے پانچ ٹکڑوں میں تقسیم کی راہ ہموار کردے گا۔

یہی وجہ ہے کہ جب فروری 2022 میں روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو گورے شیخ چلیوں نے وہ بھنگڑے ڈالے کہ ناچ ناچ کر گھونگرو توڑ ڈالے۔ گورے شیخ چلیوں کا خیال تھا کہ اکیسویں صدی کی یہ جنگ بھی 20 ویں صدی والی افغان جنگ کے اسکرپٹ کے مطابق چلے گی۔ مغرب پیچھے بیٹھ کر ہتھیار فراہم کرے گا، روس جانی و مالی نقصان اٹھا کر معاشی و عسکری دونوں لحاظ سے تباہ ہوجائے گا۔ سو کام مزید آسان کرنے کے لیے روس پر تاریخ کی بدترین معاشی پابندیاں بھی لگا دی گئیں۔ جس روز ان پابندیوں کا اعلان ہوا، اس شام گورے شیخ چلیوں نے الگ سے بھنگڑے ڈالے، اور دنیا کو بتایا کہ بس چند ہی ہفتوں میں روسی معیشت زمین بوس نظر آئے گی۔

یہ معاشی وار جذب کرنے میں روس کو صرف 6 ماہ لگے، لیکن جو جوابی وار پیوٹن نے یورپ پر کیا، اسے جذب کرنا دنیا کے ہر بڑے معیشت دان کے نزدیک ناممکن تھا۔ یورپین صنعتیں ہی نہیں گھر بھی سستی روسی گیس سے چل رہے تھے۔ روس نے گیس کی سپلائی بند کردی۔ یورپین شیخ چلیوں نے پلٹ کر اپنے وڈے شیخ چلی کی جانب دیکھا تو اس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی جسے سوشل میڈیا کی زبان میں کمینی مسکراہٹ کہا جاتا ہے۔ سو وڈے شیخ چلی نے ان سے کہا۔

’آپ نے گھبرانا بالکل نہیں، میں ہوں ناں، میں تم سب کو ایل این جی فراہم کروں گا‘۔

یوں ارزاں رشین گیس کی جگہ امریکا کی دس گنا مہنگی ایل این جی نے لے لی۔ یورپین شیخ چلیوں نے وڈے شیخ چلی کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا ’قیمت تھوڑی زیادہ نہیں؟‘ وڈے شیخ چلی نے جواب دیتے ہوئے فرمایا۔

’جلد ہی روس کو شکست ہوجائے گی، جس کے بعد ہم اسے پانچ ٹکڑوں میں بانٹ کر ہر ٹکڑے پر الگ الگ زیلنسکی بٹھا دیں گے۔ اس کی گیس، تیل، یورینیم اور گندم سمیت ہر چیز اونے پونے ہماری ہوگی‘۔

یہ سن کر یورپین شیخ چلی مزید جذباتی ہوگئے، اب وہ دنیا کو فخریہ بتا رہے تھے کہ امریکا کی مہنگی ایل این جی کو روس کی سستی گیس پر ہرگز قربان نہیں کیا جائے گا۔ کوئی صحافی پوچھ لیتا کہ جرمنی ڈی انڈسٹرالائز کیوں ہورہا ہے؟ یورپین معیشتیں مسلسل زوال کا شکار کیوں ہیں؟ تو اسے پیوٹن کا ایجنٹ قرار دے کر ملازمت سے فارغ کروا دیا جاتا۔ ان شیخ چلیوں کا تکبر اس حد کو پہنچ گیا کہ یورپین یونین کے سابق کمشنر برائے خارجہ امور جوزف بوریل نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’یورپ ایک خوبصورت باغ ہے، اور باقی دنیا فقط جنگل۔ جنگل کی کوشش ہے کہ ہمارے باغ کو اپنی لپیٹ میں لے لے، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، یہ باغ ہمیشہ شاداب رہے گا‘۔

یورپین شیخ چلیوں کے اس باغ کو اچانک آگ لگ گئی ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں ہر برائی یہودی سازش ہوتی ہے۔ اسی طرح شیخ چلیوں کے ہاں ’روسی سازش‘ کا تصور ہے۔ مگر ان کے باغ کو آگ باغ کے ہی چراغوں سے لگی ہے۔ سو یہ رسک لے ہی نہیں پا رہے کہ پرتشدد مظاہرین کو روسی آلہ کار قرار دے دیں۔ فرانس سے لے کر البانیہ تک لاکھوں لوگ سڑکوں پر ہیں۔ لوگوں کا غصہ اس شدت کا ہے کہ فرانس میں تاریخی عمارات اور البانیہ میں سپریم کورٹ بلڈنگ سے شعلے بلند ہوئے۔

مگر یہ سب ہو کیوں رہا ہے؟ کیا جنگل نے شیخ چلیوں کے باغ میں پیش قدمی کردی؟ نہیں! جنگل نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ سب کیا دھرا شیخ چلیوں کا ہی ہے۔ ذرا مظاہرین کی شکایات پر غور کیجیے، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے اداروں کا معیار گرنے کی شکایت ہی سب کی زباں پر ہے۔ پیوٹن کی سستی گیس پر مہنگی امریکی ایل این جی کو ترجیح دینے کے نتائج لاوے کی صورت پھٹ پڑے ہیں۔ 2022 سے معاشی امور کے ماہرین مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ یوکرین کی جنگ سے جان نہ چھڑائی تو کچھ نہیں بچے گا۔ مکمل معاشی تباہی آکر رہے گی۔ مگر شیخ چلیوں کو تو امریکا نے خواب دکھا رکھا تھا کہ جلد روس کے وسائل ہمارے قبضے میں ہوں گے۔ روسی گیس کے ہم خریدار نہیں بلکہ مالکان ہوں گے۔ اور انہوں نے یہ خواب بہت ہی مہنگے داموں خرید بھی لیا تھا۔

پچھلے تین سال سے یہ وارننگ بار بار آتی رہی کہ جب رشین گیس کی بندش کے بعد سے یورپین معیشت کا انجن جرمنی ڈی انڈسٹرلائزیشن کا شکار ہے تو دیگر یورپین ممالک کیسے بچ سکتے ہیں؟ مگر شیخ چلیوں نے کان نہ دھرے۔ مسئلہ فقط یہ نہ تھا کہ سستی گیس کی بندش سے ان کی صنعتوں کا بھٹہ بیٹھنے لگا، بلکہ اس پورے عرصے کے دوران یورپ نے اربوں یورو یوکرین کی جنگ پر پھونکے، اور اس معاملے میں اس حد تک چلے گئے کہ ویلفیئر فنڈز پر بھی بڑے کٹ لگا کر سرمائے کا رخ مکمل طور پر یوکرین کی جانب موڑے رکھا۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ یوکرین جنگ میں کی جانے والی سرمایہ کاری ماضی کی جنگوں کی طرح صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں رکھی گئی، بلکہ یوکرین کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پینشن اور میڈیا اداروں کے تمام اخراجات بھی چار سال سے نیٹو ممالک ادا کررہے ہیں۔

اسی سے اندازہ لگا لیجیے کہ روسو فوبیا میں یہ ممالک اس بار کس حد تک گئے۔ جنگ میں جھونکے گئے ملک کا پورا بجٹ ہی اپنے ذمہ لے لینا شیخ چلیوں والی حرکت نہیں تو کیا ہے؟ کیا اس جنگ نے رشین معیشت کا کچھ بگاڑا؟ تاریخ کی سب سے بڑی معاشی پابندیوں نے رشین شہریوں کی قوت خرید پر کوئی فرق ڈالا؟ وہاں ہر طرف سکون ہی سکون ہے۔ معیشت جنگ سے قبل والی صورتحال سے بھی بہتر پرفارم کررہی ہے۔ عوامی سطح پر پچھلے ایک سال سے بس ایک ہی اضطراب تھا، اور وہ یہ کہ جنگ سست کیوں رکھی جا رہی ہے؟ اس کی حدت بڑھا کر قصہ مکایا جائے۔ سو پچھلے دو ماہ سے روس نے جنگ کی حدت میں کئی گنا اضافہ کر ڈالا ہے۔ عسکری و معاشی امور کے ماہرین متفق ہیں کہ یوکرین جنگ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔

یہ شکست محض یوکرین کی شکست نہ ہوگی۔ یہ شیخ چلیوں کے باغ اور نیٹو کی شکست ہوگی۔ جس کے لامحدود عالمی اثرات ہوں گے۔ نیٹو اپنا جواز ہی کھو جائے گا۔ اور مغرب کی عسکری بالادستی کا تصور تاریخ کی کتابوں میں منتقل ہوجائے گا۔ روس یوکرین سے حاصل کردہ علاقوں میں تعمیر نو شروع کرے گا تو اس سے ان کی معیشت کو مزید بوسٹ ملے گا۔ لیکن شیخ چلیوں کا کیا بنے گا؟ روسی وسائل پر قبضے کے چکر میں خود کو ارزاں گیس سے محروم کرنے والوں کو اب مستقل مہنگی ایل این جی ہی خریدنی پڑے گی۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی معیشتیں سدھرنے کا امکان لگ بھگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ الٹا مہنگائی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب معاشی امور کے عالمی ماہرین صرف نیٹو ہی نہیں بلکہ یورپین یونین کے تحلیل ہونے کی بھی پیشنگوئی کررہے ہیں۔ یعنی باغ، باغ نہیں رہے گا، بلکہ جنگل کا حصہ بن جائے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت کی کمپنی کو انسانی مصنف کی تلاش، سالانہ تنخواہ 3 کروڑ 25 لاکھ روپے تک

نور زمان کا بڑا اپ سیٹ، عالمی نمبر 4 کریم عبدالغواد کو ہرا کر کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

ٹرمپ کے انتخابی جلسہ میں شرکا کی مخالفانہ نعرے بازی اور ہاتھا پائی، صدر کو خطاب روکنا پڑا

اسلام آباد میں پولیس پر حملہ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زیر حراست ڈکیت زخمی

مصنوعی ذہانت کے استعمال کا معاملہ، کینیڈین پبلشر نے معروف ناول نگار سے تعلق ختم کرلیا

ویڈیو

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

کالم / تجزیہ

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟

حوثی باغیوں کا فتنہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خطرہ