کینیڈا کے معروف اشاعتی ادارے بورئیل نے ہیٹی نژاد کینیڈین ناول نگار تھیلیسن اوریلین کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلقات ختم کردیے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں ان کے ناول کی تیاری کے دوران مصنوعی ذہانت کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔
مزید پڑھیں:معروف برطانوی جاسوسی ناول نگار لین ڈیٹن 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
الجزیرہ کے مطابق اوریلین کے ناول ’یہ کرو یا مر جاؤ‘ پر ستمبر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے الزامات سامنے آئے تھے۔ پبلشر نے ناول کے مختلف مسودوں کا بیرونی ماہرین سے تجزیہ کرایا، جس میں بعض دستاویزات کے میٹا ڈیٹا میں مصنوعی ذہانت سے متعلق نشانات پائے گئے۔ تاہم ادارے نے تسلیم کیا کہ ناول لکھنے کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی اصل حد کا حتمی تعین ممکن نہیں۔
🔥 𝗣𝘂𝗯𝗹𝗶𝘀𝗵𝗲𝗿 𝗕𝗼𝗿é𝗮𝗹 𝗗𝘂𝗺𝗽𝘀 𝗡𝗼𝘃𝗲𝗹𝗶𝘀𝘁 𝗔𝗳𝘁𝗲𝗿 𝗠𝗲𝘁𝗮𝗱𝗮𝘁𝗮 𝗖𝗼𝗻𝗳𝗶𝗿𝗺𝘀 𝗔𝗜 𝗧𝗮𝗴𝘀
Éditions du Boréal severed ties with author Thélyson Orélien, cancelling reprints of ‘C’était ça ou mourir’ and translations in more than 20 countries.
The publisher defended him last week, but an independent audit uncovered AI tags in draft metadata.
Orélien denied using AI tools, citing a 300-page 2019 draft, but refused to provide further files.
The decision lands weeks after the novel was pulled from France’s Prix Goncourt shortlist over detector tests indicating a 100-percent AI probability.
#AI #Publishing #Literature
Sources: Arab News, Euronews
───
𝗙𝗼𝗹𝗹𝗼𝘄 𝗦𝗜 𝗦𝗽𝗼𝘁𝗹𝗶𝗴𝗵𝘁 𝗳𝗼𝗿 𝗦𝗜/𝗔𝗜 𝗮𝗻𝗱 𝘁𝗲𝗰𝗵 𝗻𝗲𝘄𝘀: 𝗫 · 𝗟𝗶𝗻𝗸𝗲𝗱𝗜𝗻 · 𝗧𝗲𝗹𝗲𝗴𝗿𝗮𝗺— SI Spotlight (@SISpotlight) October 22, 2026
فرانس کے معتبر ادبی انعام گونکور کی فہرست سے بھی ناول کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے الزامات کے بعد خارج کردیا گیا تھا۔ ناول کے تراجم 20 سے زائد ممالک میں شائع ہونے کے لیے طے تھے۔
مزید پڑھیں:عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ناول نگار بیپسی سدھوا انتقال کرگئیں
تھیلیسن اوریلین نے پہلے ناول کو مصنوعی ذہانت سے لکھنے کے الزامات مسترد کیے تھے اور انہیں اپنے خلاف بہتان قرار دیا تھا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ تخلیقی عمل کے دوران تاریخی تحقیق کے لیے مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ناول لکھنے کا آغاز 2017 میں کیا تھا اور کتاب کا متن کسی مشین نے تخلیق نہیں کیا۔










