عمر رسیدہ افراد پرانی یادیں مختلف انداز میں کیوں بیان کرتے ہیں؟ جانیے حیران کن وجہ

بدھ 21 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ ہر واقعے کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات یاد رکھنے کے بجائے اس کے مجموعی مفہوم اور حاصل ہونے والے تجربے کو زیادہ اہمیت دینے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا انسانی دماغ 2 الگ اعضا پر مشتمل ہے؟ نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

محققین کے مطابق یہ محض یادداشت کی کمزوری نہیں بلکہ انسانی دماغ کی قدرتی نشوونما کا حصہ ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ لوگوں کی یادداشت میں تبدیلی آنا ایک عام بات ہے۔ اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کی یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے اور وہ ماضی کے واقعات کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھولنے لگتے ہیں۔ تاہم ایک نئی تحقیق نے اس تصور کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف ایریزونا کے محققین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ میں آنے والی تبدیلیوں کو محض ذہنی صلاحیتوں میں کمی قرار دینا درست نہیں۔ درحقیقت انسانی دماغ زندگی کے مختلف مراحل میں اپنی ترجیحات تبدیل کرتا ہے اور بڑھاپے میں تفصیلات کے مقابلے میں تجربے، حکمت اور معلومات کے مجموعی مفہوم کو زیادہ اہمیت دینے لگتا ہے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے ‘پرسپیکٹوز آن سائیکولوجیکل سائنس’ میں شائع ہوئی، جس میں سالماتی حیاتیات اور دماغی عکس بندی (نیورو امیجنگ) سے حاصل ہونے والے شواہد کا جائزہ لیا گیا۔

محققین نے اس تصور کو ‘ایڈاپٹو ایجنگ ہائپوتھیسس’ یعنی عمر کے ساتھ دماغ کی موافق تبدیلی کا نظریہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظریہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ عمر رسیدہ افراد تدریس، رہنمائی، مشاورت اور کہانیاں سنانے جیسے کاموں میں کیوں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس زندگی بھر کے تجربات اور حاصل کردہ علم کا وسیع ذخیرہ موجود ہوتا ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف فیبین ژوزے فرنانڈیز کے مطابق اگر ہم عمر بڑھنے کے عمل کو صرف ذہنی صلاحیتوں میں کمی کے طور پر دیکھیں تو ہم انسانی دماغ کی ایک اہم خصوصیت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

مزید پڑھیے: خلا میں جانے سے انسانی دماغ پر کیا اثر پڑتا ہے؟ سائنسدانوں نے اہم راز دریافت کرلیے

ان کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ دماغ نوجوان دماغ سے مختلف مقاصد کے لیے زیادہ بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے خصوصاً اپنے جمع شدہ تجربات اور سماجی تعلقات سے حاصل ہونے والے علم کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے۔

دماغ یادداشت کا انداز کیوں بدلتا ہے؟

محققین کے مطابق اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے دماغ کے 2 اہم حصوں کا کردار جاننا ضروری ہے۔

دماغ کا ہپوکیمپس کسی واقعے کی باریک تفصیلات، اس کے پس منظر اور اس سے وابستہ حالات کو یاد رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ فرنٹل کارٹیکس کسی تجربے کے مجموعی مفہوم اور اس سے حاصل ہونے والے سبق کو سمجھنے اور محفوظ رکھنے سے زیادہ تعلق رکھتا ہے۔

صحت مند عمر رسیدگی کے دوران دماغ بتدریج ہپوکیمپس پر انحصار کم اور فرنٹل کارٹیکس پر انحصار زیادہ کرنے لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر رسیدہ افراد کسی واقعے کی ہر چھوٹی تفصیل یاد رکھنے کے بجائے اس بات کو زیادہ اہمیت دینے لگتے ہیں کہ اس واقعے سے کیا سیکھا اور اس کا مجموعی مطلب کیا تھا۔

فیبین ژوزے فرنانڈیز کے مطابق یہ تبدیلی صرف انسانوں میں نہیں بلکہ جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں بھی دیکھی گئی ہے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس کے پیچھے ارتقائی عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ پوری زندگی نشوونما کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور اس کی تبدیلیاں زندگی کے ہر مرحلے کی ضروریات کے مطابق ہوتی ہیں۔

نوجوان اور عمر رسیدہ افراد کی یادداشت میں فرق

محققین کے مطابق زندگی کے ابتدائی حصے میں دماغ کو دنیا کے بارے میں معلومات جمع کرنے اور انہیں محفوظ کرنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس وقت انسان کے پاس زندگی کے تجربات اور معلومات کا وسیع ذخیرہ موجود نہیں ہوتا۔

اسی لیے بچوں اور نوجوانوں کا دماغ نئی معلومات کو تیزی سے جذب کرنے اور واقعات کی تفصیلات، سیاق و سباق اور درست ترتیب یاد رکھنے پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔

فرنانڈیز کے مطابق بچہ دنیا کو سمجھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے اس لیے اس کا دماغ اسفنج کی طرح معلومات جذب کرتا ہے اور اپنے علم کا ذخیرہ تیار کرتا ہے۔ زندگی کے ابتدائی برسوں میں یادداشت کا جھکاؤ واقعات کو درست تفصیلات اور پس منظر کے ساتھ محفوظ کرنے کی جانب زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انسانی دماغ پر پڑنے والے منفی اثرات کو کیسے روکا جائے؟ ماہرین نے بتا دیا

اس کے برعکس عمر رسیدہ افراد زندگی بھر کے تجربات اور معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ رکھتے ہیں۔ ایسے میں کسی نئے واقعے کو اس پہلے سے موجود علم کے ساتھ جوڑ کر اس کا مفہوم سمجھنا، اس کی ہر چھوٹی تفصیل یاد رکھنے سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

محققین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کی ترجیحات بھی تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ وہ نئی معلومات کی باریک تفصیلات جمع کرنے کے بجائے ان کے وسیع تر مفہوم، تصورات اور زندگی کے تجربات سے تعلق کو سمجھنے پر زیادہ توجہ دینے لگتا ہے۔

مزید پڑھیں: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت

اس تحقیق سے عمر رسیدگی اور یادداشت کے بارے میں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ ہر بھولی ہوئی تفصیل کو ذہنی صلاحیتوں میں کمی کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض تبدیلیاں دماغ کے قدرتی طور پر اپنی ترجیحات تبدیل کرنے کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں جہاں زندگی بھر کے تجربات سے حاصل ہونے والی حکمت اور علم کو زیادہ اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور میں غیر ملکی شہریوں سے سائبر فراڈ کرنے والے 3 جعلی کال سینٹرز پر چھاپے، 59 ملزمان گرفتار

شکاگو ایئرپورٹ پر طوطے کا ہنگامہ، مسافروں کو چونچیں مارنے لگا

نئی آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے مشاورت کا فیصلہ، الیکٹرک اور بڑی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں ردوبدل کی تجویز

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مالدیپی صدر ڈاکٹر معیزو سے اہم ملاقات، دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق

107 سالہ خاتون نے طویل اور خوشگوار زندگی کا راز بتا دیا، ناشتے میں کیا کھاتی ہیں؟

ویڈیو

ملتان میں وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کا واقعہ، یتیم خانے کی نگرانی پر بھی سوالات اٹھ گئے

پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو کیا ذمہ داری سونپی، سہیل آفریدی کا مستقبل کیا ہوگا؟

ملتان میں یتیم بچے کو کچلنے کے واقعے کے وقت کیا ہوا؟

کالم / تجزیہ

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟

حوثی باغیوں کا فتنہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خطرہ