وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صحت کا نظام علاج سے نہیں بلکہ احتیاط سے شروع ہوتا ہے، دنیا لائف اسٹائل میڈیسن کی طرف جا چکی ہے، پاکستان کو بھی بیماری لاحق ہونے سے پہلے اس کی روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔
مزید پڑھیں:ذیابیطس کے بڑھتے بحران سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، مصطفیٰ کمال
جامعہ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ صحت کے نظام میں اصلاحات حکومت اکیلے نہیں کرسکتی، اس کے لیے نجی شعبے اور جامعات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ علاج معالجے کے بجائے بیماریوں سے بچاؤ پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے اور اسپتال درد میں مبتلا انسانوں کے لیے امید کی جگہ ہوتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے ادویات کے معیار اور فارماکوویجیلنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ادویات کے مضر اثرات کی نگرانی اور معیار کو یقینی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جامعات اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے بڑھتی ہوئی آبادی کو پاکستان کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک 5 سال میں قریباً پورے آسٹریلیا کے برابر آبادی پیدا کررہا ہے۔ آبادی میں اضافے سے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے ملکی استحکام اور ترقی کے لیے آبادی میں اضافے پر قابو پانا ضروری ہے۔










