وفاقی وزرا احسن اقبال اور سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی، بااختیار بلدیاتی نظام اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں صوبائی دارالحکومتوں سے دور علاقوں تک حکومتی فیصلوں اور وسائل کی مؤثر رسائی میں مشکلات ہیں، اس لیے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیلِ نو پر قومی اتفاق رائے سے بحث ہونی چاہیے۔
’پاکستان کی انتظامی تشکیلِ نو: نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں انتظامی، سیاسی اور مالیاتی اختیارات کی مرکزیت کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک 1970 کے بعد انتظامی اصلاحات کے حوالے سے خاطر خواہ پیشرفت نہیں کر سکا اور اب بھی 4 صوبوں کے نظام کے تحت چل رہا ہے۔
عالمی کشیدگی کے پاکستان کی تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی پر ممکنہ اثرات کا بروقت جائزہ اور پیشگی پالیسی تیاری قومی اہمیت کی حامل ہے، تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے اور امن کے ثمرات کو معاشی مواقع میں بدلا جا سکے۔
اسی تناظر میں وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال… pic.twitter.com/DxsQGNtOWO
— M/o Planning, Development and Special Initiatives (@PlanComPakistan) October 22, 2026
احسن اقبال کے مطابق پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے معاشی اشاریوں کے ساتھ تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں بہتری بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں شرح خواندگی تقریباً 63 فیصد ہے، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور آبادی میں اضافے کی بلند شرح بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اتنی زیادہ مرکزی نوعیت کا جمہوری نظام عوام کی وسیع شرکت اور نوجوانوں کو آگے آنے کے یکساں مواقع فراہم نہیں کر سکتا۔ مؤثر ضلعی حکومتوں سے مقامی قیادت کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید
مباحثہ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اختیارات اور وسائل مقامی سطح تک نہیں پہنچ رہے، جس کے باعث عوام خود کو فیصلہ سازی سے الگ محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں سے دور بیٹھ کر پورے صوبوں کے مسائل کے فیصلے کرنا مؤثر حکمرانی کے لیے کافی نہیں۔ صوبے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ صوبائی حکومتوں کے لیے تمام علاقوں تک پہنچنا مشکل ہے، جس سے عوام اور حکومتی نظام کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو وسائل تو منتقل ہوتے ہیں، لیکن صوبوں سے اضلاع اور مقامی حکومتوں تک وسائل کی تقسیم کا مؤثر طریقہ واضح نہیں۔ ان کے مطابق صوبائی مالیاتی کمیشن کے نظام کو آئینی تحفظ دینے اور مقامی حکومتوں کو مالی و انتظامی اختیارات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ مقامی حکومتوں کے نمائندے اپنے ماتحت افسران کے تبادلوں، تعیناتیوں اور کارکردگی کے معاملات میں مکمل اختیار نہیں رکھتے، کیونکہ افسران صوبائی حکومت کے ذریعے تعینات ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مقامی نمائندوں کے پاس اپنے علاقوں کے معاملات چلانے کے لیے اختیارات اور وسائل ہی نہ ہوں تو عوام سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ
مباحثے میں شریک ایک اور مقرر نے بھی مؤثر اختیارات کی منتقلی اور آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بات کی۔ گفتگو میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سیاسی جماعتوں کو بلدیاتی نظام کے بارے میں اپنے وعدوں کو عملی شکل دینی چاہیے اور مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دینی چاہیے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینے سے متعلق تجاویز آئینی ترامیم کے مراحل میں بھی پیش کی گئیں، تاہم سیاسی جماعتوں کے تحفظات کے باعث اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ سوال قومی سطح پر زیر بحث آنا چاہیے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے میں مؤثر بلدیاتی نظام قائم کیا جا سکتا ہے یا نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیلِ نو ضروری ہے۔
مباحثے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ انتظامی اصلاحات کا مقصد صرف صوبوں کی تعداد بڑھانا نہیں، بلکہ عوام کو اختیارات اور وسائل کی فراہمی، مقامی قیادت کے لیے مواقع پیدا کرنا اور فیصلہ سازی میں شہریوں کی حقیقی شرکت یقینی بنانا ہونا چاہیے۔










